خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 211
خطبات مسر در جلد دہم 211 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2012 ء گواہ ہیں۔کئی واقعات میں پیش کر چکا ہوں۔بلکہ شاید اس وقت بھی میرے سامنے بعض ایسے لوگ بیٹھے ہوں جن کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی کہ خدا تو کئی نہیں ہو سکتے کہ کسی کو خدا کچھ بتا رہا ہو اور کسی کو کچھ بتا رہا ہو۔مختلف لوگوں کی مختلف رنگ میں رہنمائی کر رہا ہو۔اس کا ایک معیار ہے۔اگر کوئی اُس پر پرکھنا چاہے تو پر کھنا چاہئے اور یہی ایک معیار ہے۔اور پھر فرمایا کہ میں بتا تا ہوں کہ وہ معیار کیا ہے؟ اور وہ یہ ہے کہ یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فعل کیا کہتا ہے۔خوا ہیں تو اس نے بھی دیکھ لیں، اس نے بھی دیکھ لیں۔یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فعل کیا کہتا ہے۔جب یہ دیکھو گے تو جماعت کی ترقی بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے۔آج خلافت کے ہاتھ پر جماعت احمدیہ کا جمع ہونا اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی فعلی شہادت ہے۔بے نفس ہو کر جان، مال ، وقت کی قربانی دینا جس کو سب غیر مانتے ہیں، کیا اُن کے لئے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت نہیں ہے جس نے دلوں کو مضبوط باندھ کر ایک جگہ جمع کر کے ان قربانیوں پر باوجود دنیا کے ظلم سہتے چلے جانے کے آمادہ کیا ہوا ہے۔پس جماعت کی طاقت اور اس کا پھیلنا اور ترقی کرنا مخالفین کی کوششوں سے نہیں رک سکتا۔ہر جان جو احمدیت کی خاطر ، کلمہ طیبہ کی خاطر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی خاطر ، خدا تعالیٰ اور صرف خدا تعالیٰ کا عبد بننے کی خاطر قربان ہو رہی ہوتی ہے وہ اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ تمہارے مکر اور تمہاری کوششیں اور تمہاری زیادتیاں جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک نہیں سکتیں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں حضرت مولوی عبدالرحمن خان صاحب شہید اور صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت سے جان کی قربانیوں کی ابتداء ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونے کی محتاج تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی کے ذکر میں پھر آگے فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں ( یعنی افراد جماعت میں سے ) کہ وہ سچے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اُٹھانے کے لئے تیار ہیں۔لیکن جس نمونہ کو اس جوانمرد ( یعنی صاحبزادہ صاحب نے ظاہر کر دیا، اب تک وہ قو تیں اس جماعت کی مخفی ہیں“۔فرمایا ” خدا سب کو وہ ایمان سکھاوے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحه 57-58) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دعا کو جو آخری فقرے میں ہے، قبولیت