خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد دہم 207 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء نیکی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تہجد کی نماز ادا کرنا، تہجد کے نفل پڑھنا۔(صحیح مسلم کتاب الصيام باب فضل صوم المحرم حدیث نمبر (2756) اس طرح آپ نے مختلف لوگوں کو بعض مختلف امور کی طرف توجہ دلائی۔پس بڑی نیکی تین یا تین سے زیادہ تو نہیں ہوسکتیں اور بھی مختلف لوگوں کو اُن کی کمزوریوں کے مطابق توجہ دلائی ہوگی۔بڑی نیکی تو ایک ہی ہونی چاہئے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے بڑا کام اور نیکی وہ ہے جس کی کسی میں کمی ہے۔پس اگر کوئی شخص ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا یا بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتا تو اُس کے لئے دین کی خدمت بڑی نیکی نہیں ہے۔ہو سکتا ہے وہ یہ خدمت ذاتی مفاد کے لئے بھی کر رہاہو یا نام ونمود کے لئے بھی کر رہا ہو۔پس ایسے لوگ جن کے گھر والے اُن کے رویوں سے نالاں ہیں اور وہ عہد یدار بنے ہوئے ہیں ، انہیں اپنی خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے دین کی خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے ، ماں باپ اور بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص چندوں میں بہت اچھا ہے لیکن نمازوں میں سست ہے، نوافل میں ست ہے تو اُس کے لئے نماز میں اور نوافل نیکی ہیں۔اسی طرح بہت سی نیکیاں ہیں جو ایک کے لئے معمولی ہیں دوسرے کے لئے بڑی ہیں۔پس چھوٹی بڑی نیکیوں کی کوئی فہرست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ریا کی جو مثال دی ہے کہ چھوٹے چھوٹے گناہ مثلاً ریا تو یہاں بھی اس سے یہی مراد ہے کہ بظاہر چھوٹا نظر آنے والا گناہ دراصل بڑا گناہ بن جاتا ہے۔نماز پڑھنا بڑا ثواب کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا ذریعہ ہے۔دین کی معراج ہے لیکن دکھاوے کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں بلکہ الٹا دی جاتی ہیں۔اسی طرح ایک انسان نمازی ہے لیکن دوسروں کے حقوق غصب کر رہا ہے تو یہ نماز نیکی نہیں ہے بلکہ بہتر ہوتا کہ وہ دوسروں کا حق ادا کرتا اور پھر نماز ادا کر کے نماز کا ثواب حاصل کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس میں نے پڑھا ہے جس میں آپ نے ارکانِ اسلام کا ذکر فرمایا۔روزہ بھی ایک رکن ہے۔مسلمان رمضان میں روزے کا اہتمام بھی بہت کرتے ہیں لیکن بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جو روزہ رکھ کر جھوٹ ، فریب ، گالی گلوچ ، غیبت وغیرہ کرتے ہیں، ان سے کام لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر یہ سب کام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس کا روزہ روزہ نہیں ہے۔(صحيح بخارى كتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور، والعمل به في الصوم حدیث نمبر 1903) پس روزے کا ثواب بھی گیا۔تو اصل چیز یہ ہے کہ ان اعمال کو اس طرح بجالایا جائے جس طرح