خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد دہم 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء کو متبور، کولکتہ، چنائی ، بینگلور، ریشی نگر اور کا رونا گا پلی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کے، جنہوں نے وقف جدید کے چندے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور اس کے ساتھ ہی جیسا کہ میں نے کہا آئندہ سال کا بھی آج ہی اعلان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو پہلے سے بڑھ کر قربانیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان قربانیوں میں برکت بھی ڈالے۔اور جماعت کا جو مال ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ بے انتہا برکت ڈالے۔دنیا کے جو حالات ہورہے ہیں اُس میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو جماعت کو اپنے منصوبے جاری رکھنے اور اُن کو مکمل کرنے اور اُن میں مزید خوبصورتی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے اس کے بغیر تو کوئی گزارہ نہیں ہوسکتا۔اس لئے دعاؤں میں ، مال میں برکت کے لئے بھی بہت دعا کیا کریں۔آخر میں آج نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔یہ جنازہ ہمارے معروف شاعر اور بزرگ شاعر محترم عبدالمنان ناہید صاحب ابن حضرت خواجہ محمد دین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے ، اُن کا جنازہ ہے۔یکم جنوری 2012ء کو ترانوے سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ منان صاحب ایک معزز کشمیری خاندان میں 1919ء میں پیدا ہوئے تھے۔والد صاحب کا نام خواجہ محمد دین تھا جیسا کہ بتایا ہے۔اور حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے ، ان کے نانا تھے۔(ماخوذ از سیل غم۔پبلشر : ایم۔ٹی۔اے انٹر نیشنل صفحہ ٹائٹل پیج نمبر 4) حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ناہید صاحب کی والدہ محترمہ حاکم بی بی صاحبہ کے پھوپھا تھے اور انہی کے گھر میں ان کی والدہ کی پرورش ہوئی ہے اور چونکہ قادیان میں قیام تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے گھر میں بھی بہت زیادہ آنا جانا تھا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ اصلواة و اسلام اور حضرت اماں جان کے پیار اور شفقت سے بھی ان کی والدہ نے خوب حصہ لیا۔(ماخوذ از روزنامه الفضل جلد 97-62 نمبر 3 مورخہ 4 جنوری 2012 صفحہ 8) مکرم ناہید صاحب جیسا کہ جماعت کے بہت سارے صاحب ذوق لوگ جانتے ہیں (ویسے بھی لوگ جانتے ہیں ) بڑے معروف شاعر تھے اور ان کی نظمیں اور غزلیں بڑی گہری ہوا کرتی تھیں۔ابتدائی تعلیم انہوں نے سیالکوٹ میں حاصل کی۔1940ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کیا اور 41ء میں