خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 16
خطبات مسر در جلد دہم 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء ایم اے میں داخلہ تو لیا لیکن اس سے پہلے ہی ان کو ملازمت مل گئی۔تو انہوں نے پڑھائی کو چھوڑ دیا۔(ماخوذ از شعرائے احمدیت از سلیم شاہجہانپوری صاحب صفحہ 644۔ناشر: ابو العارف - مطبع : شریف سنز کراچی طبع اول) اور 1942 ء میں ملٹری اکاؤنٹس میں بھرتی ہوئے اور اسی محکمے سے 1978 ء میں ڈپٹی کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔مختلف جگہوں پر خدمت کی کام کرنے کی توفیق ملی۔(ماخوذ از ضلع راولپنڈی تاریخ احمدیت صفحه 535 مرتبہ خواجہ منظور صادق صاحب مطبع بلیک ایروپرنٹرز لا ہور 2004ء) اور جہاں جہاں بھی رہے وہاں جماعت کے کاموں میں بھی حصہ لیتے رہے۔بڑے دھیمے مزاج اور عاجزی اور انکساری کے پیکر تھے۔بڑے اچھے شاعر تھے لیکن جو اپنے جونیئر شعراء تھے، نوجوان شعراء تھے اُن کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ادب اور احترام اور بڑے سلیقے کے ساتھ بات کرتے تھے۔جماعتی مشاعروں کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔بڑے نیک انسان تھے۔یہاں بھی دو دفعہ آئے ہیں۔مشاعروں میں حصہ لیا۔خلافت رابعہ میں بھی اور میرے وقت میں بھی۔شرائط بیعت پر عمل کرنے کی ان کی کوشش ہوتی تھی۔امانت داری اور دیانت داری کی بڑی عمدہ مثال تھے۔نماز ، روزے کے پابند اور باقاعدگی سے تہجد پڑھنے والے تھے۔غرباء کے ساتھ ہمدردی اور عفو و درگز رکا سلوک بہت زیادہ تھا۔خلفاء اور بزرگانِ سلسلہ کا بیحد احترام تھا۔خلافتِ احمدیہ کے تو بہت زیادہ اطاعت گزار تھے۔ان کو صفِ اول کے وفاداروں میں کہنا چاہئے۔جماعتی مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔غرض کہ بے نفس انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اہلیہ کی وفات تو ان سے پہلے ہوگئی تھی اور اولاد ان کی کوئی نہیں تھی۔ایک بیٹا انہوں نے پالا تھا۔اور جس بیٹے کو انہوں نے پالا تھا اللہ تعالیٰ اُس کو بھی ان کے زیر سایہ پلنے بڑھنے کا جواثر ہے اُس پر ہمیشہ قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس کو بھی جماعت کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اخلاص و وفا کے ساتھ ان کے اس لے پالک کو بھی ، ان کے بچوں کو بھی توفیق دیتا ر ہے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 27 جنوری تا 2 فروری 2012 جلد 19 شماره 4 صفحه 5 تا9)