خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 203
خطبات مسر در جلد دہم 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء معراج ہے۔(تفسیر روح البیان از شیخ اسماعیل حقی بروسوی جلد 8 صفحه 109 تفسير سورة الزمر زیر آیت الله نزل احسن الحديث۔۔۔مطبوعہ بیروت ایڈیشن 2003) یعنی ایسی حالت ہے جب مومن خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اور اُس سے باتیں کرتا ہے۔پس اگر شیطان سے بچنا ہے، زمانے کی بیہودگیوں سے اور لغویات سے بچنا ہے تو اپنی نمازوں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے کامیاب مومنین کی یہی نشانی بتائی ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اس لئے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ (العنکبوت : 46) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یقیناً نماز ، وہ نماز جو خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پڑھی جائے ، یقینی طور پر بے حیائی اور بیہودہ باتوں سے روکتی ہے۔پس شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارنے کا ایک بڑا ذریعہ نماز ہے۔آجکل کے لغویات سے پر ماحول میں تو اس کی طرف اور زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بچوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے کہ انہیں بھی عادت پڑے کہ نمازیں پڑھیں۔لیکن بچوں اور نو جوانوں کو کہنے سے پہلے بڑوں کو اپنا محاسبہ بھی کرنا ہو گا، اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے جب وَيُقِيمُونَ الصلوة (البقرة: 4) کہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی ہو، اس طرف توجہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ موسم بدلنے کے ساتھ جب وقت پیچھے جاتا ہے، راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں تو فجر میں حاضری کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔گزشتہ دنوں ابھی پور اوقت پیچھے نہیں گیا تھا، پانچ بجے تک ہی نماز آئی تھی تو فجر کی نماز پر حاضری کم ہونے لگ گئی تھی۔اب پھر ایک گھنٹہ آگے وقت ہوا ہے تو حاضری کچھ بہتر ہوئی ہے یا جمعہ والے دن کچھ بہتر ہو جاتی ہے۔ابھی تو وقت نے اور پیچھے جانا ہے۔تو بڑوں کے لئے بھی اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔اگر وقت کے پیچھے جانے سے پھر ستی شروع ہو جائے تو یہ تو ایک احمدی کے لئے صحیح نہیں ہے۔اس لئے میں پہلے توجہ دلا رہا ہوں کہ وقت کے ساتھ فجر کی نماز میں حاضری میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔عہدیدار خاص طور پر نمازوں کی باجماعت ادا ئیگی میں اگر سستی نہ دکھا ئیں کیونکہ ان کی طرف سے بھی بہت سستی ہوتی ہے، اگر وہی اپنی حاضری درست کر لیں اور ہر سطح کے اور ہر تنظیم کے عہد یدار مسجد میں حاضر ہونا شروع ہو جائیں تو مسجدوں کی رونقیں بڑھ جائیں گی اور بچوں اور نو جوانوں پر بھی اس کا اثر ہوگا، اُن کی بھی توجہ پیدا ہوگی۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ کسی کا رتبہ کسی عہدے کی وجہ سے نہیں ہے۔دنیا کے سامنے تو بیشک کوئی عہدیدار ہوگا، اور اُس کا رتبہ بھی ہوگا لیکن اصل چیز خدا تعالیٰ کے پیار کو