خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 197

خطبات مسر در جلد دہم 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء قرآن میں پیدا ہو (یعنی آپس میں اختلاف ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔“ ( حدیث پر قرآن کو ترجیح ہے۔فرماتے ہیں بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے ( یعنی اپنی مرضی سے جہاں ضروری ہو بدل لے ، حلال حرام کے بارہ میں اپنے فیصلے کرنا شروع کر دے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ اور اسی پر مریں۔اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں۔اور صوم اور صلوۃ اور زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں۔غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے۔اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323) پھر اس عقیدے کا اظہار فرماتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر شے فانی ہے آپ نے واضح فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی ایک انسان تھے، نبی اللہ تھے اور اس لحاظ سے اُن کی بھی ایک عمر کے بعد وفات ہوگئی۔ہاں صلیبی موت سے اللہ تعالیٰ نے اُن کو بچالیا اور صلیب کے زخموں سے صحت یاب فرمایا اور پھر انہوں نے ہجرت کی اور کشمیر میں آپ کی وفات ہوئی۔بہر حال حضرت عیسی علیہ السلام کے وفات پانے کے عقیدے کے بارے میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔میں حضرت مسیح علیہ السلام کو فوت شدہ اور داخل موتی ایما ناو یقیناً جانتا ہوں اور ان کے مرجانے پر یقین رکھتا ہوں۔اور کیوں یقین نہ رکھوں جب کہ میرا مولی ، میرا آقا اپنی کتاب عزیز اور قرآن کریم میں ان کو متوفیوں کی جماعت میں داخل کر چکا ہے اور سارے قرآن میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق عادت