خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 195

خطبات مسرور جلد دہم 195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء فرماتے ہیں کہ : ” اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشاء ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 83 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ جماعت قائم فرمائی تو وہ اس میں شامل ہونے والوں کو خاص طور پر پاک کرنا چاہتا ہے تا کہ پاک جماعت کا قیام ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں سے ہر ایک سے یہ چاہتے ہیں کہ یہ عارفانہ خورد بین ہم لگائیں۔اس سے ہم اپنے نفس کو دیکھیں۔اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔اپنی اعتقادی غلطیوں کی جہاں اصلاح کریں وہاں ہر قسم کی چھوٹی سے چھوٹی عملی غلطیوں کی بھی اصلاح کریں۔اپنے اعمال کی طرف بھی نظر رکھیں۔اور یہ عارفانہ خوردبین ہی ہے جو معمولی قسم کی غلطیوں کو بڑا کر کے دکھائے گی کیونکہ خوردبین کا یہی کام ہے کہ باریک سے بار یک چیز بھی بڑی کر کے دکھاتی ہے۔پس اپنے گناہوں کو دیکھنے کے لئے، اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے لئے ، اپنی کمزوریوں کو دیکھنے کے لئے ہمیں وہ خوردبین استعمال کرنی پڑے گی جس سے ہم اپنے نفس کے جائزے لے سکیں۔اسی سوچ کے ساتھ ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پس ہمارا احمدی ہونے کا دعویٰ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ جماعت کوئی معمولی دعویٰ اور یہ معمولی جماعت نہیں ہے۔نہ ہی ہمارا احمدی ہونے کا دعوی معمولی دعوئی ہے، نہ یہ جماعت ایک معمولی جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کے افراد کو پاک کر کے ایک پاک جماعت بنانا چاہتا ہے جس کے لئے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔ہر احمدی کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ یہ تقویٰ اور طہارت کی زندگی کے نمونے ہی ہیں جو وہ انقلابی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں، اور یہ انقلابی تبدیلی ہمارے اعتقاد کی اصلاح اور اعمال کی اصلاح کے ساتھ وابستہ ہے۔صرف اعتقادی اصلاح فائدہ نہیں دے سکتی جب تک کہ اعمال کی اصلاح بھی ساتھ نہ ہو۔جب تک ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اعمال کی فکر نہ ہو۔کیا عقیدہ ہمارا ہونا چاہئے اور کونسے اعمال ہیں جن کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہئے، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں میں نے پڑھا۔ہم نے دیکھا کہ معمولی سے معمولی نیکی کی طرف بھی توجہ اور اُس کے بجالانے کی کوشش کی ضرورت ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔پھر مزید وضاحت سے اپنے عقیدے اور عملی حالت کی حقیقت کے معیار کے بارے میں جماعت کو بھی توجہ دلاتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :