خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد دہم 191 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمت اسلام کے بلند با نگ و در باطن پیچ دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہوگا۔“ ( اخبار ” ہمدرد مورخہ 26 ستمبر 1927ء حوالہ تعمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمد یہ کا مثالی کردار صفحہ 7) یعنی مولانا محمد علی جو ہر صاحب بھی نہ صرف جماعت احمدیہ کی کوششوں کو سراہ رہے ہیں بلکہ جماعت احمدیہ کومسلمان فرقہ میں شمار کر رہے ہیں۔جبکہ آجکل تاریخ پاکستان میں سے احمدیوں کا نام نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اور آئینی لحاظ سے مسلمان تو وہ لوگ ویسے ہی تسلیم نہیں کرتے۔پھر اسی طرح ایک بزرگ ادیب خواجہ حسن نظامی نے گول میز کانفرنس کے بارہ میں لکھا کہ : دو گول میز کانفرنس میں ہر ہندو اور مسلمان اور ہر انگریز نے جو چو ہدری ظفر اللہ خان کی لیاقت کو۔مانا اور کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی ایسا آدمی ہے جو فضول اور بے کار بات زبان سے نہیں نکالتا اور نئے زمانے کی پولیٹکس پیچیدہ کو اچھی طرح سمجھتا ہے تو وہ چو ہدری ظفر اللہ خان ہے۔“ (اخبار’ منادی 124 اکتوبر 1934 بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان میں جماعت احمد یہ کامثالی کردار صفحہ 24) پھر ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں کہ ”گول میز کانفرنس کے مسلمان مندوبین میں سے سب سے زیادہ کامیاب آغا خان اور چوہدری ظفر اللہ خان ثابت ہوئے۔“ (اقبال کے آخری دو سال صفحہ 16 بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحہ 24) یہ بھی ایک کتاب ہے اقبال کے آخری دو سال اور اس کی ناشر اقبال اکیڈمی پاکستان ہے۔پھر حضرت قائد اعظم نے خود سیاست میں واپس آنے کے بارے میں ہندوستان واپس جانے کے بارے میں فرمایا کہ : مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔( جب یہ واپس چلے گئے تھے ہندوستان چھوڑ کے ، انگلستان آگئے تھے ) نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں ، نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔آخر میں نے لنڈن ہی میں بود و باش کا فیصلہ کر لیا۔“ ( قائد اعظم اور ان کا عہد از رئیس احمد جعفری صفحہ 192 بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحہ 8) یہ رئیس جعفری صاحب کی کتاب ” قائد اعظم اور ان کا عہد میں یہ درج ہے۔” تو اُس وقت جماعت احمدیہ نے ان کو واپس لانے کی کوشش کی ، حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے امام مسجد لنڈن مولا نا عبد الرحیم در دصاحب کو بھیجا کہ قائد اعظم پر زور ڈالیں کہ وہ واپس آئیں اور مسلمانوں کی رہنمائی کریں ย