خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 189

خطبات مسر در جلد دہم 189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء پہچانتا ہے۔مجھے کون پہچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں۔اور مجھے اُس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں۔مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اُس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اُس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اُس روشنی سے حصہ لے گا۔مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دُور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں ( مضبوط قلعہ میں ہوں ، حفاظت میں رکھنے والا قلعہ میں ہوں ) ”جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔مگر جو شخص میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت در پیش ہے۔اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔مجھ میں کون داخل ہوتا ہے؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا ہے اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور بھی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ مطیع بن جاتا ہے۔ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اُس میں ہوں۔مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفس مرگی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔تب وہ اُس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پیر رکھ دیتا ہے تو وہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اُس میں کبھی آگ نہیں تھی۔“ ( انسان جب پاک بنتا ہے نفس کی دوزخ میں جب پاؤں رکھتا ہے جب انسان اپنے آپ کو ، اپنے نفس کو پاک کرتا ہے تو پھر جتنی بھی اُس کی نفس کی آگ تھی وہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے ) فرمایا: ” تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی روح اُس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تحلی خاص کے ساتھ رب العالمین کا استویٰ اس کے دل پر ہوتا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ اُس کے دل پر اپنا عرش قائم کرتا ہے ) تب پرانی انسانیت اس کی جل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اُس کو عطا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اُس سے تعلق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام 66 پاک سامان اسی عالم میں اُس کو مل جاتا ہے۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 34-35) پس یہ وہ تعلیم اور خواہشات ہیں جن پر چلنے اور پورا کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے توقع کی ہے۔حقیقی بیعت کنندہ کا یہ معیار مقرر کیا ہے۔پس آج کے دن ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ان شرائط پر اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے ، انہیں دور فرمائے اور ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی