خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد دہم 186 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن 5 جلد صفحہ 598) فرماتے ہیں کہ اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبر ہے یار یاء ہے، یا خود پسندی ہے، یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ قبول کے لائق ہو۔ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھو کہ دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔( بیعت کر لی یہی کافی ہے کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔“ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12 ) پھر مسکینوں کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے در گزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔پس چاہئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 370 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) کرو۔“ پھر آٹھویں شرط یہ ہے کہ یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 160 اشتہار تکمیل تبلیغ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی۔مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہوا اپنی طرف سے قائم کرتا۔سواس حکیم وقدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا ہے۔“ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 10 تا 12 ) پس آپ کا مقصد دنیا کی اصلاح کرنا ہے اور ہم جو ماننے والے ہیں، ہمیں ان باتوں پر غور کرنے