خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد دہم 181 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء ”نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ بہت قریب آجاتا ہے اگر اُس کا حق ادا کیا جائے ) ” نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہوکر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے۔جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہو گا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوع کے وقت میں نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے، روزہ بھی مشروط ہے، زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں۔سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کا ہے۔اس لیے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہے اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 627 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر تہجد کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجا تربیت پائی۔وہ پہلے کیا تھے۔ایک کسان کی تخمریزی کی طرح تھے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آبپاشی کی۔آپ نے ان کے لیے دعائیں کیں۔بھی صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آبپاشی سے پھل عمدہ نکلا۔جس طرح حضور علیہ السلام چلتے اُسی طرح وہ چلتے۔وہ دن کا یارات کا انتظار نہ کرتے تھے۔تم لوگ سچے دل سے تو بہ کرو، تہجد میں اٹھو، دعا کرو، دل کو درست کرو، کمزوریوں کو چھوڑ دو اور خدا تعالی کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 28 ایڈیشن 2003 مطبوعدر بوہ ) پھر آپ درود کے بارہ میں بتاتے ہیں کہ : انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الزمر: 54) اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو۔اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔سب حکموں پر کار بندر ہو۔“ ( البدر جلد 2 نمبر 14۔24 اپریل 1903 ، صفحہ 109) پھر استغفار کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: ” جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے اُن کی کمزوری