خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 178
خطبات مسر در جلد دہم 178 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہوسکتا ہو۔اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔( آج کل جو ٹی وی پروگرام ہیں، بعض چینلز ہیں، بعض انٹرنیٹ پر آتے ہیں یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو ان برائیوں کی طرف لے جانے والی ہیں۔نظر کا بھی ایک زنا ہے، اُس سے بھی بچنا چاہئے۔ہرایسی چیز جو برائیوں کی طرف لے جانے والی ہے فرمایا کہ اُس سے بچو۔زنا کی راہ بہت بری ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطر ناک ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 342) تمہاری منزل مقصود کیا ہونی چاہئے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور یہی آخری منزل ہے اور اس کے رستے میں یہ چیز روک بنتی ہے ) پھر اسی دوسری شرط کی جو دوسری باتیں ہیں، اُس میں مثلاً بدنظری ہے، اُس کے بارہ میں فرمایا: قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے، کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ (النور: 31) کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے اُن کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔پھر یا درکھو کہ ہزار درہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کا ر انسان کو اُن سے رُکنا ہی پڑتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 105 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پھر آپ مزید فرماتے ہیں۔اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کئے ہیں۔پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے، مردوں کو بھی ویساہی تاکیدی حکم ہے۔محض بصر کا۔نماز، روزہ ، زکوۃ، حج ، حلال وحرام کا امتیاز ، خدا تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں اپنی عادات، رسم و رواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہو سکتا۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 614 ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ)