خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد دہم 179 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء فسق و فجور سے بچنے کے لئے آپ فرماتے ہیں: جب یہ فسق و فجور میں حد سے نکلنے لگے (یعنی مسلمان یا دوسرے مذاہب کے لوگ ) اور خدا کے احکام کی ہتک اور شعائر اللہ سے نفرت ان میں آگئی اور دنیا اور اس کی زیب وزینت میں ہی گم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی ( یہ مسلمانوں کے ذکر میں فرمایا ) اسی طرح ہلا کو ، چنگیز خان وغیرہ سے برباد کروایا۔لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسمان سے آواز آتی تھی اَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَارَ - ( یعنی اے کا فرو! فاجروں کو قتل کرو ) غرض فاسق فاجر انسان خدا کی نظر میں کافر سے بھی ذلیل اور قابل نفرین ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 108 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پھر فساد سے بچنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: "تمہیں چاہیے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے اُن سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ اُن کے لیے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔دیکھو میں اس امر کے لیے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سُن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو جب میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔بلکہ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ یہاں تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس جماعت میں ہو کر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو وہ یادر کھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہوسکتی ہے (اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے لوگ گندی گالیاں دیں) کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں تو اس معاملہ کو خدا کے سپر د کر دو۔تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 157 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) (دشمنوں کے مقابلے میں۔اور یہی پاکستان میں احمدیوں کو بار بار کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں اب