خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 177
خطبات مسرور جلد و هم 177 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء جان کے نقصان کے وقت جھوٹ بول جائے اور سچ بولنے سے خاموش رہے تو اس کو دیوانوں اور بچوں پر کیا فوقیت۔فرمایا : ” دنیا میں ایسا کوئی بھی نہیں ہوگا کہ جو بغیر کسی تحریک کے خواہ نخواہ جھوٹ بولے۔پس ایسا سچ جو کسی نقصان کے وقت چھوڑا جائے حقیقی اخلاق میں ہر گز داخل نہیں ہوگا۔سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو۔اس میں خدا کی تعلیم یہ ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: (31) وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا (البقرة: 283) وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَ مَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ أَثِمٌ قَلْبُهُ (البقرة: 284) وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى (الانعام:153) كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ (النساء: 136) وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا (المائدة: (9) وَ الصَّدِقِينَ وَ الصَّدِقتِ (الاحزاب: 36) وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : 4 لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ (الفرقان: 73)۔اس کے ترجمہ میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پر ہیز کرو۔یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ جب تم سچی گواہی کے لئے بلائے جاؤ تو جانے سے انکارمت کرو۔اور سچی گواہی کو مت چھپاؤ اور جو چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہے۔اور جب تم بولو تو وہی بات منہ پر لاؤ جو سراسر سچ اور عدالت کی بات ہے۔(انصاف کی بات ہے ) ''اگر چہ تم اپنے کسی قریبی پر گواہی دو۔حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ۔اور چاہئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو۔جھوٹ مت بولو۔اگر چہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے۔یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے یا اور قریبیوں کو جیسے بیٹے وغیرہ کو۔اور چاہئے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں سچی گواہی سے نہ روکے۔بچے مرد اور سچی عورتیں بڑے بڑے اجر پائیں گے۔ان کی عادت ہے کہ اوروں کو بھی سچ کی نصیحت دیتے ہیں۔اور جھوٹوں کی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔“ فرمایا کہ: ( اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 360-361) پھر آپ اس کے بارہ میں مزید فرماتے ہیں۔دوسری شرط میں بہت ساری باتیں شامل ہیں۔