خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 169

خطبات مسر در جلد دہم 169 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء اور ایک لڑکا چھوٹی عمر کے پیچھے رہ گئے جن کو بحکم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی میں جاکر 1924ء میں واپس لے آیا۔دو سال کے بعد اُس کی اہلیہ فاطمہ بی بی جو میرے چھوٹے بھائی حافظ غلام محمد صاحب کی بیٹی تھی فوت ہو گئی۔یہ بھی نہایت فصیح الزبان مبلغہ تھیں۔ان کی اہلیہ تھیں وہ بھی بہت اچھی مبلغہ تھیں) انہوں نے لکھا۔اللّهُمَّ اغْفِرْلَها وَارْحَمْهَا۔پھر کہتے ہیں کہ دونوں بچے بفضل خدا میرے زیر تربیت ہیں۔( جب یہ لکھ رہے ہیں ) لڑکی کی شادی ہو گئی لڑکا جس کا نام بشیر الدین ہے میرے پاس ہے۔اس وقت مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پاتا ہے۔میری دلی خواہش ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے اپنے والد مولوی عبید اللہ شہید مرحوم کی جگہ جا کر تبلیغ کا کام کرے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 174 تا 176 روایت حضرت حافظ غلام رسول صاحب) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو یہ موقع ملا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے ان کو بھی ماریشس بھجوایا۔یہ بھی لمبا عرصہ رہے ہیں۔ان کے بچے شاید آجکل یہیں رہتے ہیں۔آگے ان میں سے تو کوئی مبلغ نہیں بنا لیکن بہر حال انہوں نے بھی ماریشس میں بڑی تبلیغ کی ) جماعت کی لمبا عرصہ خدمت کی ہے۔پھر میاں شرافت احمد صاحب اپنے والد حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن آپ ایک جگہ موضع گھنو کا منگلہ کو جارہے تھے کہ وہاں جمعہ پڑھائیں گے۔راستے میں موضع گھرور میں بھوک کی وجہ سے دو پیسے کے چنے لئے۔کپڑے وغیرہ صاف کر لئے اور چنے وغیرہ کھا کر سفر کی تیاری کی۔گھاٹ سے نکلتے ہی لو لگ گئی۔گرمی کے دن تھے۔بیہوش ہو کر سڑک پر لیٹ گئے۔کسی راہ گیر نے تھانہ گھرور میں جا کر کہا کہ قادیانی مولوی صاحب تو لو لگنے کی وجہ سے راستے میں پڑے ہیں۔ایک سپاہی جو کہ آپ کا معتقد تھا بھا گا ہوا آیا۔آپ کو راستے میں کوئی یکہ وغیرہ نہ ملا۔، ٹانگہ نہ ملا۔وہ لاچار آپ کو اپنے سہارے آہستہ آہستہ قصبے کی طرف لایا۔چونکہ کو آگے سے بھی بہت تیز تھی۔گرم ہوا چل رہی تھی۔آپ میں کوئی سکت نہ رہی۔قصبے سے باہر بھی ایک دھر مسالہ تھا اُس کے چبوترے پر لیٹ گئے۔لوگوں نے بہت کہا کہ آگے چلیں۔مگر آپ نے کہا کہ بس پہنچ گیا جہاں پہنچنا تھا۔لوگوں نے دوائی وغیرہ دی مگر کسی نے اثر نہ کیا۔لوگوں نے بہت کہا کہ آپ کے لڑکے کو تار دے دیتے ہیں۔آپ نے کہا کہ بچہ ہے گھبرا جائے گا۔اب خدا کے سپر د۔ان کلمات کے بعد وہ مرد باصفا اپنے آقا کے حکم کو کہ خدمت دین کریں، پوری اطاعت اور فرمانبرداری سے بجالاتا ہوا اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔انا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کہتے ہیں کہ مرحوم کا جنازہ غیر احمدیوں نے ہی پڑھا۔وہاں احمدی بھی کوئی نہیں تھا اور انہوں نے ہی دفن کیا۔خدا تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے۔دوسرے تیسرے دن احمدی دوستوں کو