خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 162
خطبات مسر در جلد دہم 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء آنکھیں کھول کر دیکھیں۔پھر مولوی صاحب نے یہی رٹ لگائی۔خیر میں نے پھر کہا کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔تین دفعہ کہا۔مولوی صاحب نے قرآن کریم ہاتھ میں لیا اور مکتبہ کا نام، پریس کا نام دیکھا اور پوچھا کہ اس کا مصنف کون ہے۔میں نے پھر کہا نعوذ باللہ آپ اس کو خدا کا کلام نہیں مانتے تبھی مصنف پوچھتے ہیں۔خیر مولوی کہتا ہے۔نہیں نہیں۔غلطی ہو گئی۔یہ کس کی تالیف ہے۔میں نے پھر کہا مولوی صاحب ہوش کریں اور حسب منشاء خود آیت نکالیں۔مولوی صاحب نے قرآنِ شریف کھولا اور پھر ورق گردانی شروع کر دی۔ہمیں منٹ ورق گردانی کرتے رہے۔کوئی آیت نہ ملی۔پھر آخر میں نے اُن کو کہا کہ مولوی صاحب آپ ہیں آیات قرآنی بتا رہے ہیں۔اگر ایک نہیں تو دوسری نکال دیں۔دوسری نہیں تو تیسری نکال دیں۔آخر مولوی کہنے لگا کہ قرآن میں تو وہ آیات نہیں نکلتیں۔مجھے نظر نہیں آرہیں۔میں زبانی پیش کر دیتا ہوں۔پھر مولوی صاحب کہنے لگے کہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (آل عمران: 56 )۔ترجمہ مولوی صاحب نے اس کا یہ کیا کہ جب کہا اللہ تعالیٰ نے ، اے عیسی ! میں تیری روح کو مع جسم پورے کے آسمان پر اُٹھانے والا ہوں۔تو اس پر کہتے ہیں کہ میں نے کہا مولوی صاحب! قرآن سے وہ آیت نکالیں اور الفاظ سامنے رکھ کر بحث ہو گی۔مولوی صاحب نے پھر قرآن ہاتھ میں لیا۔پھر دس منٹ تک ورق گردانی کرتے رہے۔کوئی آیت نہ ملی۔لوگوں نے اُن سے ٹھٹھا کرنا شروع کیا اور کہا کہ عجیب قرآن دانی ہے آپ کی کہ ایک مشہور آیت آپ کو نہیں ملی۔لوگ اُن کا مذاق اُڑاتے وہاں سے اُٹھ گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 181 تا 185 روایت حضرت میاں جمال الدین صاحب) اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ پچھلی دفعہ بھی میں نے سنایا تھا لیکن وہ اور واقعہ تھا۔بہر حال یہ عموماً علماء کی جو نام نہاد علماء ہیں اُن کی عادت ہے۔پھر حضرت منشی محبوب عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ حکیم محمد علی صاحب موجد روح جیون بوٹی شاہی طبیب ریاست جموں و کشمیر تھے۔وہ پنشن لے کر لاہور میں سکونت پذیر ہوئے۔میں اُن کے ہاں ملازم تھا۔وہ بھی اکثر مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کیا کرتا تھا اور بہت بدزبانی کیا کرتا تھا۔چنانچہ ایک دن دورانِ گفتگو میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شانِ مبارک میں دیوث کا لفظ استعمال کیا۔( نعوذ باللہ )۔میں نے رات کو بہت دعائیں کی اور استغفار کیا کہ ایسے شخص سے میں نے کیوں گفتگو کی جس نے ایسی بے ادبی کی ہے۔مگر رات کو مجھے خداوند کریم نے رویا میں دکھایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میاں چراغ دین صاحب مرحوم کے مکان میں تشریف فرما ہیں اور میں حاضر خدمت ہوا