خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 10
خطبات مسر در جلد دہم 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012 ء نے کہا چھ مہینے پہلے میں ایک ایسے ملک میں رہا ہوں جہاں جماعت نہیں تھی اور وہ چندہ بھی میرے ذمے بقایا تھا اس لئے میں نے یہ اتنی رقم گل نو ہزار سوئس فرانک بھجوائی ہے۔تو یہ ان لوگوں میں ایمان کا معیار ہے کہ بندوں کو تو علم بھی نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو تعلم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے حساب ہر وقت صاف رکھ رہے ہیں۔پھر ایک پاکستانی احمدی دوست ہیں، جو سوئٹزرلینڈ میں ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔انہوں نے چندے کی ادائیگی کے لئے پانچ ہزار سوئس فرانک کا وعدہ لکھوا یا۔کمپنی کی طرف سے پانچ ہزار کا بونس ملنے کی امید تھی۔لیکن ساتھ اُن کو یہ بھی (خیال تھا کہ بونس ملے گا تو کچھ ذاتی ضروریات جو ہیں اُن پر خرچ کرنا ہے۔پھر جب یہ پتہ لگا کہ چندہ ہے، وعدہ بھی اتنا لکھوایا ہوا ہے اور اُس کی ادائیگی کا وقت بھی قریب ہے تو انہوں نے اس کو چندے میں ادا کرنے کے لئے بتادیا کہ انشاء اللہ یہ چندہ ادا کر دوں گا۔اور کر بھی دیا۔اور اپنی جو ضرورت ہے وہ پیچھے پھینک دی۔بعد میں انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اُس پر ایسا فضل فرمایا کہ فرم نے اُن کو پانچ ہزار کے بجائے دس ہزار یورو، دو گنا کر کے بونس ادا کیا۔اس طرح اُن کی ذاتی ضرورت بھی پوری ہو گئی اور وقف جدید کا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔پھر اسی طرح ہمارے بینن کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ جماعت کے ہمارے معلم ایک جگہ تحریک جدید کا چندہ لینے گئے تو عبد اللطیف صاحب نے اکتیس سوفرانک سیفا چندہ دیا اور کہا کہ دعا کریں اگر اللہ تعالیٰ مزید آمدن بھیج دے تو مزید چندہ بھجوا دوں گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُسی ہفتے لطیف صاحب نے معلم کو بلوایا اور مزید سات ہزار فرانک سیفا چندہ دے دیا اور کہا کہ جس دن میں نے تمہیں اکتیس ہزار فرانک سیفا چندہ دیا تھا اُسی دن ایک مریض آگیا تھا جس کے علاج پر اُس نے پہلے مجھے چونتیس ہزار کی رقم دی لیکن پھر یہ کہتے ہوئے کہ میرے پاس واپسی کا کرایہ نہیں ہے، تین ہزار فرانک واپس لے لیا کہ اس کی مجھے ضرورت ہے اور اکتیس ہزار فرانک مجھے دے دیا۔کہتے ہیں اس پر فوراً میرے دل نے یہ گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے واقعی دس گنا بڑھا کر یہ رقم دی ہے، اکتیس سو کی جگہ اکتیس ہزار۔اس لئے میں اپنا یہ چندہ بڑھا کر سات ہزار تمہیں بھجوا رہا ہوں۔اسی طرح لائبیریا کے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک جگہ دورے پر گئے تو آٹھ سالہ طفل نے گھر کے جو چھوٹے موٹے کام ہوتے ہیں پانی لانا، بیگ رکھنا وغیرہ اُن کے چھوٹے چھوٹے کام کئے۔بچے بھی وہاں بڑے جوش اور جذبے سے مبلغین کی خدمت کرتے ہیں۔تو مر بی صاحب نے خوش ہو کر اُسے پانچ