خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 152

خطبات مسرور جلد دہم 152 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء لیکن آجکل تو یہ حال ہے کہ اگر آپ پاکستان میں کسی مولوی کو صحیح طور پر بھی کچھ کہیں تو فوراً جیسا کہ پچھلی دفعہ میں نے بتایا تھا کہ قانون کا سہارا لے کر ایک قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔اپنی عزت و نام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے ساتھ منسوب کر کے ناموسِ رسالت کا مقدمہ کروا دیتے ہیں۔یہ تو آجکل ان کا حال ہے۔حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میرا نکاح حضرت صاحب کی دعا کی برکت سے ہو گیا تو میں نے اپنی ساس کو تبلیغ کی۔وہ بہت متاثر ہوئی۔(وہ احمدی نہیں تھی۔تبلیغ سے متاثر تو ہوئی لیکن بیعت نہیں کی ) ایک دن اُس نے مجھے اپنا زیورا تار کر دے دیا کہ یہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دو اور اُن سے عرض کرو کہ اس کا عوض مجھے قیامت کو ملے۔چنانچہ میں وہ زیور لے کر قادیان گیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا کہ یہ میری ساس نے دیا ہے اور اُس نے عرض کیا ہے کہ اس کا عوض قیامت میں مجھے ملے۔حضور نے وہ قبول فرمایا اور زبانِ مبارک سے فرمایا۔انشاء اللہ تعالیٰ اس کا عوض ان کو مل جائے گا۔ایک مدت کے بعد جب وہ فوت ہوگئیں اور میں نے اُن کا جنازہ نہ پڑھا۔کیونکہ ( با قاعدہ ) انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔جب میں حضرت اقدس کی خدمت میں گیا۔(1906ء کا واقعہ ہے، کہتے ہیں ) اور میں نے عرض کیا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں مگر میں نے اُن کا جنازہ نہیں پڑھا۔حضور نے فرمایا۔اُن کا جنازہ پڑھ لینا چاہئے تھا کیونکہ اُنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ احمدی ہیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 265 تا 266 روایت منشی قاضی محبوب عالم صاحب) ہو سکتا ہے ماحول کی وجہ سے یا کم علمی کی وجہ سے بیعت نہ کی ہو لیکن عمل ایسا تھا جس سے ثابت ہوا کہ وہ احمدی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا، اشاعتِ اسلام کا ، خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا جو مقصد تھا کہ اشاعتِ اسلام کے لئے سب کچھ دے دو، اُس کے لئے تو انہوں نے جو اُن کی پیاری چیزیں تھیں، جن سے ایک عورت کو محبت ہوتی ہے اُس زمانے میں تو بہت زیادہ ہوتی تھی ، آج بھی ہے یعنی کہ زیور ، وہ دے دیا۔قیامت کا خوف تھا۔دل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش تھی۔لیکن یہاں یہ بھی واضح ہو جائے کہ اس کے یہ معنی بھی نہیں لینے چاہئیں کہ جو کوئی یہ کہہ دے کہ احمدیوں کو برا نہیں سمجھتے تو اُن کو احمد یوں میں شمار کر لیا جائے۔اس موقع پر جیسا کہ انہوں نے کہا، اُنہوں نے اپنا مال ، اپنی محبوب چیز اشاعتِ اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کی جس کے لئے آپ آئے تھے۔صرف دل میں برا منانا یا احمدیوں کو اچھا سمجھنا کافی نہیں تھا۔کیونکہ ایک جگہ