خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد دہم 143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء کی طرف بلانے والے ہوتے ہیں۔پس یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پھر بڑی تیزی سے اسلام کے پیغام کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ باہر بھی پھیلانے کی کوشش کی۔اس وقت ان لوگوں کے چند واقعات، تبلیغی واقعات میں بیان کروں گا۔حضرت امام دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولوی فتح دین صاحب نے ہمارے نام ایک خط لکھا کہ دھرم کوٹ میں ( دھرم کوٹ ایک جگہ کا نام ہے ) مولوی عبدالسبحان مانیا نوالہ مباحثے کے لئے آیا ہوا ہے۔قادیان سے کوئی مولوی لے کر بہت جلد پہنچیں۔ہم مولوی عبداللہ صاحب کشمیری کو ہمراہ لے کر دھرم کوٹ پہنچ گئے۔وہاں بہت دوست جمع ہو گئے۔مولوی صاحب بہت جماعت دیکھ کر بھاگو والہ میں سردار بشن سنگھ کے پاس چلے گئے۔ہماری تمام جماعت بھا گووالہ میں چلی گئی۔( تبلیغ کا ایک شوق تھا وہاں پہنچ گئے۔) آخر مباحثہ زیر صدارت سردار بشن سنگھ کے قرار پایا اور وفات وحیات مسیح پر گفتگو ہوئی مگر فریق مخالف اس بات پر بیٹھ گیا ( یعنی کہ اس بات پر اڑ گیا اور اسی پر ضد کرنی شروع کر دی۔) کہنے لگا کہ میں تب مباحثہ کروں گا جب تک یہ اقرار نہ کر لیں کہ مرزا صاحب کا نام قرآن شریف میں دکھاویں گے۔(اور پھر شرط یہ لگائی کہ اس طرح نام دکھا ئیں کہ مرزا غلام احمد ولد مرز اغلام مرتضیٰ ( قرآن کریم میں لکھا ہو، تب میں مانوں گا۔نہیں تو میں بحث نہیں کروں گا۔مولوی عبداللہ صاحب نے کہا کہ قرآن شریف سے دکھا دوں گا۔تب سلسلہ گفتگو شروع ہو گیا۔جب اُس (مولوی) نے مطالبہ کیا تو مولوی صاحب نے کہا (کہ) اگر انبیاء سابقین کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں، پہلے آپ دکھا دیں کہ اُن کے نام مع ولدیت لکھے ہیں تو ہم بھی اسی طریق پر دکھا دیں گے۔اگر پہلوں میں یہ طریق ثابت نہیں تو ہم پر یہ سوال کیوں کیا جاتا ہے؟ فریق مخالف نے اس کا معقول جواب نہ دیا۔آخر شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا۔سردار بشن سنگھ نے کہا، ( جن کی زیر صدارت یہ سب مباحثہ ہوا تھا۔) یہ مولوی ( تو ) کچھ نہیں جانتا ( اور پھر اُس کو پنجابی میں کچھ گالیاں والیاں بھی دیں۔) آخر ( کہتے ہیں کہ) خدا نے فتح دی۔اس مباحثے کا ذکر ہم نے حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاس کیا تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب نے یہ کیوں نہ کہا کہ میرا نام خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اِسْمُهُ أَحْمَد فرمایا ہے۔(ماخوذ از جسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 5 صفحہ 57 روایت حضرت امام دین صاحب) حضرت پیر افتخار احمد صاحب اپنے والد ماجد پیر احمد جان صاحب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ” میرے والد صاحب نے حضرت صاحب کے اس دعویٰ کو قبول کر کے ( یہ بیعت سے پہلے آپ کا قصہ