خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد دہم 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء گھر آ رہے تھے۔جب گھر کے نزدیک پہنچے ہیں تو ایک موٹر سائیکل پر دو نامعلوم افراد نے آپ پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں آپ زخمی ہو گئے۔ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں راہ مولیٰ میں جان قربان کردی - إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کے ساتھ آپ کے نواسے کو بھی کو لہے کے اوپر گولی لگی اور پھر وہاں سے گزر کے آنتوں میں چلی گئی۔آنتوں کو متاثر کیا ہے۔اس کا آپریشن ہو چکا ہے اور اس وقت ہسپتال میں آئی سی یو (ICU) وارڈ میں داخل ہے۔اللہ تعالیٰ اُس کو صحت و سلامتی والی زندگی عطا فرمائے۔شہید مرحوم نے 1960ء میں نوابشاہ شفٹ ہونے کے بعد اپنے کاروبار کے ساتھ جماعتی طور پر بھی بہت خدمت کی ہے۔لمبا عرصہ انہوں نے خدمت کی توفیق پائی۔تقریباً پینتیس سال تک بطور سیکرٹری مال نوابشاہ ضلع اور شہر کے فرائض انجام دیتے رہے۔اسی طرح نائب امیر ضلع کے طور پر بھی خدمات بجالاتے رہے۔شہید مرحوم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔عبادت گزار، تہجد کا باقاعدہ اہتمام کرنے والے، انتہائی زیرک اور معاملہ فہم انسان تھے۔بعض لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ جب سیکرٹری مال رہے ہیں تو کبھی یہ نہیں ہوا کہ اگر کسی نے کہا ناں کہ میں نے چندہ دینا ہے تو خواہ فون پر ہی اطلاع دی کہ آج میں نے چندہ دینا ہے تو بجائے اس کے کہ اُس کو کہتے کہ تم میرے پاس لے آؤ، خود اُس کے گھر پہنچ جاتے تھے اور فوری طور پر چندہ وصول کر کے رسید کا ٹاکرتے تھے۔جماعت کا در درکھنے والے تھے۔فلاحی کاموں میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔خلافت سے عشق رکھنے والے، خطبات کو بڑے غور سے ،شوق سے باقاعدہ سنتے تھے۔صدر صاحب جماعت نوابشاہ شہر بیان کرتے ہیں کہ آپ میں عہدے داران کی اطاعت کا جذبہ بھی بہت زیادہ تھا۔صدر صاحب کہتے ہیں کہ عمر میں بہت بڑے ہونے کے باوجود مجھ سے اطاعت اور ادب کے ساتھ پیش آتے تھے۔اس دفعہ جب آسٹریلیا سے آئے ہیں تو مجھ سے نادار اور غرباء کی فہرست تیار کروائی جس میں احمدی اور غیر احمدی سب شامل تھے اور جتنی دیر وہاں رہے اُن کی با قاعدہ مدد کرتے رہے۔اسی طرح نوابشاہ کا ایک سینٹر کافی عرصے سے بند تھا جو کہ آپ نے بڑی محنت اور کوشش کے ساتھ کھلوایا اور پھر اس کی تعمیر کے حوالے سے کہا کہ آپ لوگ اس کی جو مزید تعمیر و مرمت کرنی ہے، شروع کر دیں، میں آسٹریلیا واپس جاکے آپ کو تعمیر کے لئے رقم ضرور بھجواؤں گا۔وہ تو اللہ تعالیٰ نے موقع ہی نہ دیا۔اللہ کرے کہ جماعت خوداب وہاں اس کی تعمیر مکمل کرلے۔ان کو شہادت کا بھی بہت شوق تھا۔ان کی بہو کا بیان ہے کہ جب کسی کی شہادت کی خبر سنتے تو کہتے تھے کہ یہ اعزاز تو مقدر والوں کو ملتا ہے۔آخر اللہ نے