خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 134
خطبات مسرور جلد دہم 134 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء مولوی صاحب نے بغیر جواب لکھے حضرت صاحب ( مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کا مضمون سنانا شروع کر دیا۔حضرت صاحب نے پھر فرمایا کہ اگر جواب آپ لکھ لیتے تو اچھا تھا۔( خود بھی اس کا جواب لکھ لیتے تا کہ وقت نہ ضائع ہوتا۔) مگر انہوں نے کہا کہ نہیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مضمون پڑھنا شروع کر دیا کہ) میں زبانی جواب دے دوں گا۔( مجھے آپ کے اس مضمون کا جواب لکھنے کی ضرورت نہیں۔خیر انہوں نے حضرت صاحب کا مضمون پڑھ کر سنا دیا اور جب سارا مضمون پڑھ کے سنا دیا تو (اس کے بعد ) دیر تک خاموش کھڑے رہے۔جواب نہیں دے سکے۔ساتھ کے طلباء میں سے بعض نے کہا کہ اگر ہم کو یہ معلوم ہوتا کہ آپ جواب نہیں دے سکیں گے تو ہم کسی اور کو سرغنہ بنا لیتے۔آپ نے ہمیں بھی شرمندہ کیا۔اس پر مولوی صاحب نے ایک طالب علم کو تھپڑ مارا۔( جواب تو آیا نہیں، غصے میں تھپڑ مار دیا۔) اور اُس نے مولوی صاحب کو مارا۔(اُس نے بھی جواب میں آگے سے مار دیا۔ہمارے مفتی محمد صادق صاحب تھے،انہوں نے ان دونوں غیر احمدیوں کی لڑائی چھڑائی۔) اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر شروع ہو گئی اور حضرت صاحب کی تقریر میں لوگوں نے کچھ شور کیا۔جماعت کے لوگوں نے حضرت صاحب کے گردگھیرا ڈال دیا۔اُس میں کچھ تھوڑی سی جگہ کھلی رہ گئی تھی۔( کہتے ہیں ) میں وہاں (جا کے ) کھڑا ہو گیا۔( ابھی یہ احمدی نہیں ہوئے تھے۔تو ) اکبر خان ایک احمدی چپڑاسی تھے ، انہوں نے مجھے کو مخالف سمجھ کر دھکا دے کر وہاں سے ہٹا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد پھر میں وہاں کھڑا ہو گیا۔( دل میں تھوڑی سی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایک محبت پیدا ہو چکی تھی اس لئے وہ خالی جگہ دیکھ کر وہاں کھڑے ہو گئے کہ کوئی نقصان نہ پہنچائے۔کہتے ہیں اُس نے پھر مجھے دھکا دیا۔جب وہ دوبارہ ) دھکا دینے کے لئے آگے بڑھے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت خلیفہ اول نے اُن کو روکا کہ کیوں دھکا دیتے ہو؟ اکبر خان نے کہا کہ حضور ! یہ مخالف ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ تم نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا ہے؟ جو آتا ہے اُس کو آنے دو۔اس کے بعد مولوی چھریاں والا کھڑا ہو گیا ( وہ بھی کوئی نام تھا، مولوی چھریاں والا ) اُس نے حضرت صاحب کے متعلق بعض بیہودہ الفاظ کہے۔اس پر میں نے کہا کہ او چھریاں والے! زیادہ بکو اس کی تو تیری زبان پکڑ کر کھینچ لوں گا۔اس پر حافظ عبدالمجید نے اُس کو منع کیا کہ اس وقت اپنی فوج کی سپاہ بگڑ رہی ہے۔(اس وقت خاموش رہو اور اخلاق کے دائرے سے باہر نہ نکلو کیونکہ اپنے ہی جو لوگ ہیں وہ بگڑ رہے ہیں ہمیں اپنوں سے ہی مار پڑ جانی ہے۔اس لئے خاموش کھڑے رہو۔لہذا تم خاموش رہو۔کہتے ہیں حضرت صاحب نے تقریر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور