خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد و هم 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء تو اس طرح بھی یہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے نکتے نکالا کرتے تھے۔حکیم عبد الصمد خان صاحب ولد حکیم عبد الغنی صاحب دہلی کے تھے۔انہوں نے 1905 ء میں بیعت کی تھی یہ لکھتے ہیں کہ میں 1891ء میں ایک مولوی صاحب سے جلالین پڑھا کرتا تھا۔اس میں يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (آل عمران : 56 ) والی آیت آگئی جس کی تفسیر میں لکھا تھا (کہ) میں حیران ہوا کہ مِنْ غَيْرِ مَوت کہاں سے آگیا۔یہ متن کی تفسیر ہو رہی ہے یا متن کا مقابلہ ہورہا ہے؟ رات غور کرتے کرتے دو بج گئے۔اتفاقاً والد صاحب کی آنکھ کھلی۔انہوں نے اتنی دیر جاگنے کا سبب دریافت کیا۔میں نے اصل حقیقت کہہ سنائی۔فرمایا۔میاں استاد کس لئے ہوتا ہے۔تم صبح جا کر مولوی صاحب سے یہ معاملہ حل کروالینا۔چنانچہ میں صبح مولوی صاحب کے پاس گیا اور سارا قصہ کہ سنایا۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ میاں متقدمین سے لے کر متاخرین تک سب کا یہی مذہب چلا آتا ہے۔اس میں جھگڑا مت کرو۔( کہ شروع سے یہی مسئلہ چلا آ رہا ہے، چھوڑو اس کو۔مگر میں نے کہا کہ جب تک میری سمجھ میں نہ آئے میں آگے ہرگز نہیں چلوں گا۔اس پر وہ بہت ناراض ہوئے۔میرے والد صاحب کو بھی بلوایا۔مگر انہوں نے کہا کہ آپ استاد ہیں اور یہ شاگرد۔(میرے استاد کو کہہ دیا کہ تم استاد ہو۔یہ تمہارا شاگرد ہے۔میں نے تمہارے پاس پڑھنے بھیجا ہے۔آپ جانیں اور آپ کا کام۔میں اس میں دخل نہیں دیتا۔اور یہ کہہ کر (والد صاحب تو اُٹھ کر چلے گئے۔اور مولوی صاحب نے پھر مجھے کہنا شروع کیا کہ پڑھو۔میں نے کہا جب تک آپ سمجھا ئیں نہ، میں کیسے پڑھ سکتا ہوں۔اس پر مولوی صاحب کو غصہ آیا۔اور انہوں نے مجھے ایک تھپڑ مار کر کہا کہ ایک تجھے جنون ہوا ہے اور ایک مرزا کو۔میں حیران ہوا کہ یہ مرزا کون ہے؟ ( اُن کی واقفیت بھی نہیں تھی۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام بھی نہیں سنا تھا۔کہتے ہیں میں حیران ہو گیا اس بات پر کہ مرزا کون ہے؟) ساتھ ہی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں کسی اصل پر قائم ہوں؟ ( بہر حال یہ میرا خیال نہیں ہے بلکہ اس کی کوئی بنیاد ہے۔میرے دل میں جو یہ خیال آیا تو اور لوگ بھی ہیں جو یہ خیال رکھتے ہیں۔یونہی میں نے وقت ضائع نہیں کیا۔اس پر میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ جب تک سمجھا ئیں گے نہیں میں آگے نہیں چلوں گا۔یہ دین ہے اور دین میں جبر جائز نہیں۔آج آپ تھپڑ مار کر مجھے اپنے مذہب پر کر لیں گے۔کل کو کوئی اور مولوی صاحب دو تھپڑ مار کر اس کے مخالف کہلوالیں گے اور پرسوں کوئی تین تھپڑ مار کر ان کے بھی خلاف کہلوالے گا۔تو یہ کیا مذاق ہے؟ میں ہرگز نہیں پڑھوں گا۔(اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہر بات کو پُرانے لوگ یونہی نہیں مان لیا کرتے تھے۔بڑی