خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد و هم 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء ختم کی۔گھر کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔اور جب حضور گھر پہنچے تو میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کی قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ باتیں بتائی ہیں اور انہوں نے مجھے اس قدر اصرار سے ڈرایا ہے کہ میں نے ڈر کے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی ہے۔کہیں آپ کی کوئی بات میرے کانوں میں نہ پڑ جائے۔لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر نے مجھے کچھ باتیں سنوا دی ہیں اور مجھے وہ اچھی لگیں۔اب میں آپ کی باتیں سننا چاہتا ہوں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے بارے میں بتایا اور قرآن کریم سنایا۔اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! میں نے اس سے خوبصورت کلام کبھی نہیں سنا تھا۔اور اس سے زیادہ درست بات نہ سنی تھی۔چنانچہ انہوں نے کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔(دلائل النبو پیلم بتی جلد 5 صفحہ 360-361 باب قصتہ دوس والطفیل بن عمرو رضی الله عنه۔۔۔۔۔دار الكتب العلمیة بیروت 2002ء) تو یہ ہمیشہ سے مخالفین کا طریقہ چلا آ رہا ہے۔جادو اگر ہوتا ہے تو مخالفین کی طرف سے ہوتا ہے۔کبھی انبیاء کی طرف سے نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے تو یہی دلیل دی ہے کہ جادو کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔اور اگر ان کے نزدیک یہ جادو کامیاب ہو رہا ہے تو پھر قرآنی دلیل کے مطابق یہ جادو نہیں بلکہ سچائی ہے جس کو ان کو بھی قبول کر لینا چاہئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں ( یہ جموں کے رہنے والے تھے، خلیفہ نورالدین کہلاتے تھے ) یہ لکھتے ہیں کہ ”میں مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی کو ایک سال تک سمجھا تا رہا۔انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا کہ مرزا صاحب پر علماء نے کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں۔میں نے کہا کہ تمہارے باپ پر بھی تو مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔اس کے بعد انہوں نے ایک مولوی صاحب ( غالباً مولوی محمد لکھو کے والے) کے متعلق کہا کہ اُسے بھی الہام ہوتا ہے۔اس سے لکھ کر پوچھتا ہوں کہ مرزا صاحب کے دعویٰ کے متعلق خدا کا کیا حکم ہے۔ایک ماہ بعد اس مولوی کا یہ جواب آیا کہ میں نے دعا کی تھی ، (جواب سنیں ذرا مولوی صاحب کا ) میں نے دعا کی تھی ، خدا کی طرف سے جواب ملا ہے کہ ”مرزا صاحب کا فر“۔میں بھدرواہ کام پر گیا ہوا تھا۔جب جموں واپس آیا تو مجھے یہ خط دکھلایا گیا۔میں نے کہا کہ الہام کرنے والا خدا نعوذ باللہ کوئی بڑا ڈر پوک خدا ہے جو مرزا صاحب کو کا فر بھی کہتا ہے اور ساتھ ”صاحب“ بھی بولتا ہے۔( یہ نکتہ بھی انہوں نے اچھا نکالا کہ کہہ رہا ہے کہ ”مرزا صاحب کا فر“۔ایک طرف تو اللہ کہہ رہا ہے کہ کافر ہے اور دوسرے ”صاحب“ کا لفظ بھی استعمال کر رہا ہے جو بڑا عزت کا لفظ ہے۔) ایسے ڈرپوک خدا کا الہام قابل اعتبار نہیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہؓ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 66تا67)