خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد دہم 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء حملہ کر رہے ہیں۔کیونکہ وہ ( اللہ تعالیٰ) تو فرماتا ہے کہ میرے قرآن کی کوئی مثل نہیں لا سکتا اور آپ یہ کہہ رہے ہیں ( کہ مرزا صاحب نے قرآن کریم بنا دیا، کچھ تو ہوش کریں۔کہنے لگے کہاں لکھا ہے؟ میں نے ساتویں پارے کی آیت پڑھی۔کہنے لگے ہم تمہیں ایک ہی گر بتاتے ہیں کہ ان بے ایمانوں (یعنی احمدیوں ) کے ساتھ بات نہ کی جائے ، ( تبھی تم بیچ سکتے ہواور کوئی گر نہیں ہے۔بلکہ نظر کے ساتھ نظر نہ ملائی جائے۔( اگر نظر ملاؤ گے ) تو بھی اثر ہو جاتا ہے۔(ان دوگروں کو یاد رکھو تو بچ کر رہو گے۔کہتے ہیں ) میں نے کہا مولوی صاحب ! سچائی کا اثر ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔( یہ جو آپ مجھے گر بتا رہے ہیں یہ تو سچائی کی نشانی ہے۔مولوی صاحب واپس ہو کر چلے گئے۔میرا بھائی جو مخالف تھا وہ نیروبی میں چلا گیا۔میں نے بیعت کر لی۔والد صاحب اور بیوی کو بھی سمجھا لیا۔گویا سب کو سمجھا لیا۔بھائی کو نیروبی میں جا کر سمجھ آئی۔وہ دس ماہ کے بعد واپس چلے آئے اور آتے ہی بیعت کر لی۔( لکھتے ہیں ) اب خدا کے فضل سے ( جب یہ واقعہ لکھ رہے تھے کہ ) ہمارے محلے میں سوڈیڑھ سو افراد احمدی ہیں۔آج بھی یہی لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ نہ ان سے بات کرو، نہ ان سے نظر ملاؤ۔اور یہ صرف آج کی بات نہیں ہے۔آج سے چودہ سو سال پہلے بھی یہی کہا جاتا تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوئی فرمایا تھا۔وہ مشہور واقعہ جو حضرت طفیل بن عمرو دوسی کا آتا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں آیا، تو قریش نے مجھے کہا کہ تم ایک معز ز سر دار ہو اور سمجھ دار شاعر ہو تم ہمارے ملک میں آئے ہو۔تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ایک نص نے ہمارے درمیان دعوی کیا ہوا ہے اور ہمارے اندر تفرقہ ڈال دیا ہے اور ہمیں پراگندہ کر دیا ہے۔اس کے کلام میں جادو ہے جس سے باپ بیٹے اور بھائی بھائی اور میاں بیوی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ہمیں ڈر ہے کہ آپ اور آپ کی قوم بھی ، اگر ان کی باتیں آپ نے سن لیں تو وہی حال نہ ہو جائے جو ہمارا ہورہا ہے۔لہذا اس شخص سے نہ بات کرنا ، نہ اس کی بات سننا۔کہتے ہیں کفار نے اس قدر اصرار کیا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں آپ کی بات نہیں سنوں گا۔بلکہ جب مسجد، خانہ کعبہ میں گیا تو اس ڈر سے کانوں میں روئی ڈال لی کہ کہیں آپ کی کوئی بات میرے کانوں میں نہ پڑ جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نماز میں مشغول تھے۔میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر نے آپ کا کچھ کلام مجھے سنواہی دیا جو مجھے اچھا لگا۔تو میں نے دل میں کہا کہ تمہارا برا ہو۔تم ایک زیرک انسان ہو۔عقل مند ہو۔شاعر ہو۔اچھے برے کی تمیز جانتے ہو۔اس شخص کا کلام تو سنا چاہئے۔اگر با تیں اچھی ہوں گی تو مان لینا۔اگر بری ہوئیں تو ترک کر دینا۔کہتے ہیں بہر حال میں وہیں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز