خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد دہم 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء اسی طرح چند دن ہوئے مجھے ایک لڑکی کا خط آیا۔بڑے اچھے نمبر اُس کے آئے، پڑھائی میں ہوشیار ہے لیکن بورڈ کے امتحان کا جو داخلہ فارم ہے۔اب انہوں نے نیا فارم بنایا ہے، کمپیوٹرائز فارم ہے۔جس پر ٹک (Tick) کرنا ہے، مسلم یانان مسلم۔پہلے تو ہمارے بچے احمدی لکھ دیا کرتے تھے اور اب وہ آپشن (Option) نہیں رہی۔یہ بچی کہتی ہے کہ کیونکہ آپ نے کہا ہوا ہے کہ مسلمان لکھنا ہے تو میں مسلمان کے کالم پر ٹک کرتی ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دینے کی جو ڈیکلریشن ہے اُس پر بھی دستخط کرو۔وہ جب ہم نہیں کرتے تو داخلہ کینسل ہو جاتا ہے۔تو یہ تختیاں سکول کے بچوں پر اور اچھے بھلے ہوشیار بچوں پر آج بھی ہو رہی ہیں۔وہاں تو پر نسل انصاف پسند تھا۔اُس نے کچھ انصاف کیا اُس نے اور ان پر یہ تختی بند ہوگئی۔لیکن آجکل تو حکومتی قانون کے تحت یہ بے انصافی کی جارہی ہے اور انتہا تک کی جا رہی ہے اور کافی اور بچے بھی ہیں جو اس لحاظ سے متاثر ہو رہے ہیں۔بہر حال یہ ظلم چل رہا ہے لیکن اس ظلم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو آجکل کے ہمارے نوجوان ہیں ان کے ایمان بھی مضبوط ہورہے ہیں۔اسی طرح حضرت مہر غلام حسن صاحب اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں اور مولوی فیض دین صاحب بیٹھے تھے (کہ) ایک شخص بنام رحیم بخش صاحب قوم درزی یہاں آیا۔آ کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب ! آج طبیعت بہت پریشان ہے۔میں نے اُس کی وجہ پوچھی تو وہ بیان کرنے لگے کہ حامد شاہ ایک فرشتہ اور با خدا آدمی ہے۔ہندو مسلمان اُن کی تعریف کرتے ہیں۔(سب اُس کی تعریف کر رہے ہیں، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان ہو۔) آج اُن سے (ایک) بہت (بڑی) غلطی ہوئی ہے۔آج انہوں نے اپنے ماموں عمر شاہ کو کہا ہے کہ ماموں جان! آپ کا حضرت ابن مریم کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ بیٹا! میرا تو یہی مذہب ہے کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں۔کسی زمانے میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے آئیں گے۔شاہ صاحب نے کہا کہ ماموں صاحب! آج سے آپ میرے امام نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے کہ ایک انسان کوحی و قیوم اور لازوال مانا جائے۔دوسری بات یہ کہ سید و مولیٰ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اس عقیدے سے بڑی ہتک ہوتی ہے کہ وہ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسیٰ آسمان پر اُٹھائے جائیں۔عمر شاہ نے اس پر کہا کہ اچھا بیٹا آپ آگے کھڑے ہوا کریں اور میں پیچھے پڑھا کروں گا۔( کہتے ہیں اُن کی یہ باتیں سنتے ہی میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! میں نے مان لیا ہے کہ مسیح مر گیا ہے۔اگر مسیح زندہ رہیں تو توحید میں بڑا فرق آتا ہے۔آپ یہ مت خیال کریں کہ احمدی ہوں۔میں