خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد دہم دو دو 120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012ء یہ دستور ہونا چاہیے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں۔ایک تیر نا جانتا ہے اور دوسرا نہیں۔تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے؟ اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لیے قرآن شریف میں آیا ہے : تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى (المائدة: 3) کمزور بھائیوں کا بار اُٹھاؤ۔عملی ، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت، جماعت نہیں ہو سکتی جبتک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے۔اور اس کی یہی صورت ہے کہ اُن کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو، کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے “ پھر فرماتے ہیں : ” دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چارمل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور اُن کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ایسا ہر گز نہیں چاہیے بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے۔اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے۔اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی، پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔۔۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدائے تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 263 تا265 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ انقلاب پیدا کرنے کے لئے آئے تھے کہ تقویٰ کو دنیا میں دوبارہ قائم کریں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے عبادالرحمن کا خالص گروہ بنا ئیں۔پس ہماری خوشی صرف مسجد کی تعمیر کے ساتھ نہیں ہے بلکہ مسجدوں کی تعمیر کے ساتھ مُخلِصِينَ لَهُ الدِّينَ پر عمل