خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد دہم 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012ء انسان پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات ہیں اور خاص طور پر جو یہاں رہنے والے ہیں جہاں مذہبی آزادی بھی ہے اور دنیاوی معاملات میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت فضل اور احسان ہیں۔فرمایا کہ اُس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔چاہئے کہ اخلاص ہو ، احسان ہو اور اُس کی طرف ایسا رجوع ہو کہ بس وہی ایک رب اور حقیقی کارساز ہے۔عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اُسی کی عظمت اور اُسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا سے بہت مانگے اور بہت توبہ استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تاکہ تزکیۂ نفس ہو جاوے اور خدا سے سچا تعلق ہو جاوے اور اُسی کی محبت میں محو ہو جاوے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 335 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پس یہ وہ حالت ہے جو ایک مومن کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور مسجد اس حالت کے پیدا کرنے اور اس کی یاددہانی کروانے کا بہترین ذریعہ ہے۔پس ہمیں ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ مسجد بننے سے ہماری ذمہ داری پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔جہاں ہم نے عبادتوں کے حق ادا کرنے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات کی پابندی کی طرف بھی توجہ کرنی ہے۔پہلے سے بڑھ کر توجہ دینی ہے ورنہ ہم مخلصين له الدين پرعمل کرنے والے نہیں ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اب یہ زمانہ ہے کہ اس میں ریا کاری، نجب، خود بینی ، تکبر، نخوت ، رعونت وغیرہ صفات رذیلہ تو ترقی کر گئے ہیں اور مُخلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وغیرہ صفات حسنہ جو تھے وہ آسمان پر اٹھ گئے ہیں۔” تو گل ، تفویض وغیرہ سب باتیں کالعدم ہیں۔یعنی دنیا داری پر انحصار اور اپنی بڑائی تکبر وغیرہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ پر تو گل کم ہے۔دنیا کے خداؤں کی طرف توجہ زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی طرف توجہ کم ہے۔عبادت کے حق بھی ادا نہیں کئے جاتے اور جو کام اللہ تعالیٰ نے سپرد کئے ہیں، جن نیکیوں کا حکم دیا ہے اُن پر توجہ بالکل بھی نہیں ہے۔فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ مُخلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کس طرح ہو سکتے ہیں؟ کس طرح یہ حق ادا کر سکتے ہیں؟ پھر آپ نے فرمایا کہ اب خدا کا ارادہ ہے کہ ان کی تخم ریزی ہو۔“ ( البدر جلد 3 نمبر 10 مورخہ 8 مارچ 1904 ءصفحہ 3) یعنی ان نیک کاموں کی تخم ریزی ہو۔خدا کا یہ ارادہ کس طرح ہے؟ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے