خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد و هم 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم انسپکٹر ریلوے تھے۔ایک سو پچاس روپیہ اُن کو ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔بڑے مخلص اور ہماری جماعت کے قابل ذکر آدمی تھے۔وہ بیس روپیہ ماہوار اپنے گھر کے خرچ کے لئے اپنے پاس رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیتے تھے اور ہمیشہ اُن کا یہ قاعدہ تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 15 صفحہ نمبر 360 روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب) پھر دیکھیں دین کی خدمت کے لئے اور قربانی دینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غریبوں کے دلوں میں بھی شوق پیدا کیا تھا۔اُن کو بھی تڑپ رہتی تھی جن کی کوئی آمد نہیں تھی۔غربت تھی، بڑا خاندان تھا، بچے زیادہ تھے ، خرج پورے نہیں ہوتے تھے وہ کس طرح قربانی دیا کرتے تھے۔حضرت قاضی قمر الدین صاحب رضی اللہ عنہ سائیں دیوان شاہ صاحب کے بارے میں واقعات بیان کر رہے ہیں اُس کے بعد لکھتے ہیں کہ ” میں بھی سائیں صاحب سے کبھی دریافت کیا کرتا کہ آپ کو قادیان شریف جانا کوئی خاص کام کی وجہ سے ہے؟ کیونکہ جہاں ان کا گاؤں تھا، سائیں صاحب وہاں سے گزر کر جایا کرتے تھے اور رات بسر کیا کرتے تھے۔سائیں دیوان شاہ نارووال کے رہنے والے تھے اور وہاں سے گزرتے ہوئے جاتے تھے۔پیدل سفر کیا کرتے تھے۔یہ، نارووال سے چلتے تھے اور قادیان آتے تھے جو کئی میل کا فاصلہ ہے۔اگر بیچ میں سے بھی جائیں تو شاید کم از کم سو میل ہو۔تو کہتے ہیں کہ قادیان شریف جانا کوئی خاص کام کی وجہ سے ہے یا شوق ملاقات سے جارہے ہیں؟ تو کہتے ہیں سائیں دیوان شاہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چونکہ غریب ہوں، چندہ تو دے نہیں سکتا اس لئے جا رہا ہوں کہ مہمان خانے کی چار پائیاں بن آؤں تا کہ میرے سر سے چندہ اتر جائے۔تو اس کی جگہ میں لنگر خانے کی جو چار پائیاں ہیں اُن کی بنائی کر کے مزدوری کا یہ کام کر آؤں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 96 روایت حضرت قاضی قمر الدین صاحب) یہ دو تین مثالیں میں نے دی ہیں۔پس یہ تھے ان لوگوں کی قربانیوں کے، اُن لوگوں کے معیار جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت سے فیض پایا اور روایات میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔لیکن میں وقت کی وجہ سے یہی چند ایک بیان کر رہا ہوں۔اور اس بات کو پیش کرنا چاہتا ہوں اور اس بات پر ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہونے چاہئیں اور پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں جھکتے چلے جانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس جماعت کا قیام فرمایا ہے اُس میں قربانی کے اعلیٰ