خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 100

خطبات مسر در جلد دہم 100 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا، تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپا یہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جس کا میں نے ذکر کیا، ہشیار پور اور لدھیانے کا سفر تھا جو آپ نے چلہ کشی کا کیا) تیرے سفر کو تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر ! تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں ( یعنی خدا تعالیٰ قادر ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ جس سے پاک ہے۔وہ نور اللہ ہے، مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے پاک صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کر نے والا ہوگا۔دوشنبہ ہے مبارک دوشنبه فرزند دلبند گرامی ارجمند، مظهَرُ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ، مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَانَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نورجس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اُس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اُس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 96،95 اشتہار نمبر 33 اشتہار 20 فروری 1886 ء مطبوعہ ربوہ )