خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد دہم 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء مجموعہ اشتہارات میں جلد اول میں یہ سارا لکھا ہوا ہے۔اس پیشگوئی کے مصداق تو جیسا کہ میں نے کہا یقیناً حضرت خلیفہ اسیح الثانی تھے۔اس کا آپ نے 1944ء میں خود بھی اعلان فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی خوشی میں یوم مصلح موعود کے جلسے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا، آئندہ چند دنوں میں یہ جلسے مختلف جماعتوں میں ہوں گے۔اس لئے کہ جماعت کے ہر فرد کو پتہ چلے کہ یہ ایک عظیم پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔یہاں ضمناً میں اُن لوگوں کے لئے بھی جو دنیا کے ماحول کے زیر اثر ، جن کا دینی علم بھی نا کافی ہے، کئی دفعہ میں بیان پہلے بھی کر چکا ہوں لیکن پھر بھی سوال کرتے رہتے ہیں، کہ جو سالگرہ منانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ سالگرہ پر سوال کرتے ہیں، کہ ہماری بھی سالگرہ منائی جائے۔اور جیسا کہ میں نے کہا دنیا کے زیر اثر بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مصلح موعود کا دن مناتے ہیں تو باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے اور پھر سالگرہ کیوں نہیں مناتے ؟ یعنی باقی خلفاء کی سالگرہ کی آڑ میں اپنی سالگرہ کی طرف جانا چاہتے ہیں۔تو یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد کا یوم ولادت نہیں منایا جاتا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی پیدائش تو 12 جنوری 1889 ء کی ہے۔اور یہ پیشگوئی جو عظیم الشان تھی آپ کی پیدائش سے تین سال پہلے کی ہے۔اُس پیشگوئی کے پورا ہونے کا دن منایا جاتا ہے جو 20 فروری 1886ء کو کی گئی تھی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے یہ پیشگوئی تھی اور یہ پیشگوئی اس لحاظ سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔اس وضاحت کے بعد پھر میں اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے بہت سارے پہلو بیان ہوتے ہیں، لیکن اس وقت میں دو باتیں بیان کروں گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس کو مصلح موعود قرار دیا اور خود مصلح موعود کی اپنی حالت، اسلام کے بارے میں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور مسلم اُمہ کے بارے میں اُن کی دلی کیفیت کیا تھی ؟ کیونکہ وقت نہیں ہے کہ باقی جو اس پیشگوئی کے الفاظ ہیں اُن کو ہر ایک کو لیا جائے اس طرح تو تقریباً کوئی باون پوائنٹ بنتے ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا یہ دو باتیں بیان کروں گا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق قرار دیا، آپ یہی سمجھتے تھے۔آپ کی اپنی جو کتاب ہے ” تریاق القلوب“ جو روحانی خزائن کی جلد 15 ہے، اس کے صفحہ 219 میں فرماتے ہیں کہ :۔