خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 95

خطبات مسرور جلد دہم 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء ربوہ کے قریب ہونے کی وجہ سے احمدی اکثر ربوہ آجایا کرتے تھے اور حضرت مولوی احمد خان نسیم صاحب کا گھر اُن کو اپنا گھر ہی لگتا تھا۔تو اُن کے بیٹے نے لکھا کہ بعض دفعہ مختلف جگہوں سے پچاس پچاس مرد وزن کا قافلہ سفر کر کے پہنچ جاتا تھا اور بڑی خندہ پیشانی سے یہ اُنکی مہمان نوازی کیا کرتی تھیں، یہ لوگ بغیر اطلاع کے فورا آتے ، ہمارے معاشرے میں پتہ ہی ہے دیہاتی لوگ خاص طور پر اس طرح ہی کرتے ہیں، تو فوراً اُن کے لئے گرم گرم کھانا تیار کیا جاتا تھا۔کبھی ان کے چہرے پر شکن نہیں آئی کہ یہ لوگ کس طرح آگئے اور پھر یہ کہ ان لوگوں سے ایک تعلق قائم ہو گیا تھا تو انہوں نے اس تعلق کو مولوی صاحب کی وفات کے بعد بھی جاری رکھا اور لوگ اُسی طرح ان کے گھر آتے رہے۔غرباء کا بہت خیال رکھتی تھیں، کبھی اپنے بچوں سے کچھ نہیں لیا لیکن اُن کو یہ تلقین ضرور کیا کرتی تھیں کہ غریبوں کو دو۔اپنی جو رقم پاس ہوتی، غریبوں، فقیروں اور یتیموں کو تقسیم کر دیا کرتی تھیں، کہتے ہیں ان کے گھر میں غریبوں کا تانتابندھارہتا تھا، دکھ سکھ بانٹنے والی بھی ان کے پاس آجایا کرتی تھیں اور سب سے بڑی خوبی یہ کہ خلافت سے انتہائی وفا کا تعلق تھا، ہمیشہ بچوں کو بھی اس کی تلقین کی، ان کے دلوں میں محبت پیدا کروائی اور اس کے لئے کوشش کرتی رہتی تھیں۔موصیہ تھیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند فرمائے۔ان کے پیچھے تین بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار ہیں۔جن میں سے ایک بیٹے ان کے پاس تھے، ان کے دو بیٹے ہکرم ناصر پروازی صاحب اور نسیم مہدی صاحب باہر ہیں، جو امریکہ میں ہمارے مبلغ ہیں۔پروازی صاحب بھی جنازے پر نہیں جاسکے اور نیم مہدی صاحب بھی بعض وجہ سے نہیں جا سکے۔اللہ تعالیٰ ان کو سب کو صبر اور حوصلہ دے۔نیم مہدی صاحب ہمارے مبلغ سلسلہ ہیں اور یقیناً اُن کے لئے اُن کی والدہ کی دعائیں میدان میں بڑی کام آتی رہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ آئندہ بھی یہ دعاؤں کے حامل بنتے رہیں۔دوسرا جنازہ مکرمہ حاکم بی بی صاحبہ کا ہے جو مکرم مولوی غلام رسول صاحب معلم اصلاح وارشاد پاکستان کی اہلیہ تھیں۔9 فروری کو تقریباً سو سال کی عمر میں اُن کی وفات ہوئی ہے، إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ بھی بڑی نیک خاتون تھیں، دعا گو اور متوکل، انتہائی مالی تنگی کے حالات میں بھی بڑی وفا کے ساتھ اپنے خاوند کے ساتھ رہی ہیں۔بڑی خود دار تھیں کبھی کسی حالت میں بھی، مالی تنگی کی حالت میں بھی کسی آگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔خوش لباس تھیں ، کوشش کرتی تھیں کہ کم میں زیادہ سے زیادہ اچھا گزارہ کریں۔اٹھائیں سال تک رسول نگر میں رہی ہیں جو سینٹر وہاں کی جماعتوں کا تھا اور مرکزی مہمان بھی وہاں جایا کرتے تھے۔دوسرے مہمان بھی آتے تھے ، اور ان کا گھر مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا بڑی