خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 83
خطبات مسر در جلد دہم 83 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء اور اللہ تعالیٰ ایک انسان کی طرح اُس سے محروم ہو ) فرمایا بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے۔“ (انسان کی سوچ تو محدود ہے، وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی ، ان صفات کا احاطہ بھی نہیں کر سکتی ) فرمایا ”جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من گل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رزائل سے بکلی منزہ ہے۔“ ( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 435، 436 حاشیہ نمبر 1) اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دعا سکھائی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ جوصفات، تیرے جو نام میرے علم میں ہیں، اُن کی بھی خیر چاہتا ہوں اور جو میرے علم میں نہیں اُن کی بھی خیر چاہتا ہوں۔(الجامع لاحكام القرآن (تفسير القرطبي) صفحه 1760 تفسير سورة النحل زير آيت نمبر 13 مطبوعه وو دار ابن حزم، بیروت 2004ء) پس انسان تو اللہ تعالیٰ کی صفات کا ، ناموں کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔پھر الحمد لله رب العلمین کی اس مختصر تشریح کے بعد الحمد کے معنے بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے۔نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔( تعریف اُس کی کی جاتی ہے جو انعام دینے والا ہے جس نے اپنے ارادہ سے اور اپنی مشیت کے مطابق انعام دیا ہو، مشیت اور مرضی تو صرف خدا تعالیٰ کی ہی ہوتی ہے جو چلتی ہے، اس کے مطابق احسان کیا ہو) اور حقیقت حمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض و انوار کا مبدء ہو“ تمام فیض اُس سے پھوٹ رہے ہوں اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے، نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔“ (سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے علم رکھتے ہوئے پھر احسان کرتا ہے، غیر شعوری طور پر نہیں یا کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ) ” اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔اور وہی محسن ہے اور اوّل و آخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔“ تر 66 اردو ترجمه عربی عبارت ساله اعجاز مسیح روحانی جلد 18 صفحہ 130،129 بحوالہ تفسیر حضر مسیح موعودجلد 1 صفحہ 75،74) 1