خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 82

خطبات مسر در جلد دہم 82 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء اس کو سمجھنے کے لئے اپنا مطالعہ بھی ضروری ہے تبھی ہم زمانے کے امام کے اُن روحانی خزائن کا صحیح فہم اور ادراک حاصل کر سکیں گے اور اس سے استفادہ کرسکیں گے۔الحمد لله ربّ اللّمین کی مختصر وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ الحمدُ لله تمام محامد اس ذات معبود برحق متجمع جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں“ ( یعنی تمام جوحمد ہے، تعریف ہے ، وہ اللہ تعالیٰ پر ہی ثابت ہوتی ہے جو تمام صفات کا، جس میں تمام صفات جمع ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جس میں یہ صفات کامل طور پر پائی جاسکتی ہیں۔فرمایا ” جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور ستجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منزہ ( تمام صفات کا مجموعہ ہے اور تمام قسم کی کمزوریاں، کمیاں، گھٹیا چیزمیں اُن سے وہ پاک ہے ) اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے۔“ ( تمام فیض جو ہیں اُسی سے پھوٹتے ہیں ) ” کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کا جو نام ہے اُس میں جو تمام دوسری صفات ہیں ، وہ موجود ہیں۔صرف ایک اللہ کے نام میں اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی موجودہ صفات ہیں ، وہ پائی جاتی ہیں ) اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ“ (یعنی کامل طور پر اُن صفات کا حامل ہونے کی وجہ سے ان تمام صفتوں پر دلالت ہے۔جن کا وہ موصوف ہے۔اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کاملہ پر مشتمل ہے۔“ (یعنی اللہ کا جو نام اللہ ہے، تو اس لفظ میں تمام صفات ہیں یہ مکمل طور پر جمع ہوگئی ہیں)۔فرمایا کہ ” پس خلاصہ مطلب الحمد لله کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔اور نیز جس قدر محامد صحیحہ اور کمالات تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے ( یعنی جو کچھ بھی صحیح حمد اور تعریف ہو سکتی ہے، جو کوئی کمالات انتہا تک کوئی پہنچ سکتے ہیں ، جو کوئی عقل مند انسان سوچ سکتا ہے ) یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے۔وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں۔اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے۔مگر اللہ تعالیٰ بد قسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو۔“ ( یہ نہیں ہو سکتا۔کوئی خوبی جو انسان سوچ سکتا ہے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ انسان کی عقل گواہی دے کہ یہ خوبی ہے