خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 81

خطبات مسرور جلد دہم 81 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012ء صلاحیت کو ختم کر دیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرنے کی طرف توجہ دینے کی طرف تیار ہی نہیں ہیں۔اکثریت اُن میں سے، اس کی وجہ سے عموماً عامتہ المسلمین یہ غور کرنا نہیں چاہتی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایسی تعداد بھی ہے جو سوچتی ہے، غور کرتی ہے اور مسیح و مہدی کی ضرورت کو بجھتی ہے۔پس یہ لوگ جو مولوی کے ہاتھ چڑھے ہوئے ہیں انہیں یہ مولوی اور یہ نام نہاد علماء تو شر اور گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں۔پس جب ہر دردمند دل رکھنے والا انسان اس بات کا اظہار کرتا ہے اور ان میں یہ احساس تو ہے کہ شر، شرک اور گمراہی کا دور دورہ ہے اور یہ ہر جگہ ہمیں پھیلتی نظر آ رہی ہے اور اس کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے کسی خاص بندے کی ضرورت ہے، تو پھر تلاش بھی کرنا چاہئے کہ وہ بندہ کہیں آتو نہیں گیا۔یقینا اللہ تعالیٰ کا وہ خاص بندہ آپکا ہے، لیکن اکثریت جیسا کہ میں نے کہا علماء کے پیچھے چل کر اُسے ماننے کو تیار نہیں یا خوف کی وجہ سے ماننے کو تیار نہیں۔پس علماء کو بھی اور عوام الناس کو بھی خدا تعالیٰ سے رہنمائی لینی چاہئے اور اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے۔بہر حال ہمارا کام پیغام پہنچانا ہے اور وہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ پہنچاتے رہیں گے، اپنا کام کرتے چلے جائیں گے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہم احمدیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشقِ صادق کی طرف منسوب ہوتے ہیں، ہمیں بھی اپنا علم و عرفان بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔سورۃ فاتحہ کے مضامین سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جس طرح اس سورۃ کے مضامین کو مختلف جگہوں پر اپنی تحریرات میں کھول کر ہمارے سامنے بیان فرمایا ہے، یقیناً ہم پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم اُس کو سمجھنے کی کوشش کریں، اس کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کریں تا کہ ہم اپنی ذات پر اس مضمون کو جاری کر کے اس سے فیضیاب ہوسکیں۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آپ کی سورۃ فاتحہ کی دوسری آیت یعنی بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيْمِ کے بعد جو آیت ہے، الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ، اس کے حوالے پیش کروں گا۔آپ نے اس آیت کے اندر سموئے ہوئے مختلف مضامین کو مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔یہ چند حوالے میں نے لئے ہیں، یہ آپ کے اس آیت کے بارے میں وہ چند پہلو ہیں جو آپ کے علمی و روحانی خزانے میں موجود ہیں، جن کی نشاندہی آپ نے فرمائی ہے اور اس کے علاوہ بھی صرف اس ایک آیت کے اور بے شمار حوالے بھی ہیں۔یقیناً ان کو پڑھنے سے، سننے سے علم و عرفان بڑھتا ہے۔لیکن نہ ہی ایک مرتبہ سننے سے اس کے گہرے مطالب تک انسان پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ پہنچا جا سکے۔