خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 713
خطبات مسرور جلد دہم 713 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء احمد جبرائیل سعید کے بارے میں جو اور دوسری رپورٹیں بھی ہیں۔کہتے ہیں کہ گھانا کے ہمسایہ ملک ٹوگو میں بارڈر کے ساتھ شمالی علاقے میں تبلیغی کام کرنے کی توفیق ملی۔آپ نے متعدد مرتبہ ان علاقوں کے دورے کئے اور تبلیغی مہمات کیں۔یہاں مخالفت بھی بڑی تھی۔چنانچہ آپ کی کوششوں سے ملک ٹوگو کے پانچ علاقوں ممپا گا (Mampaga) مپلوگ (Mamprug)، اور مانگو(Maango)، اور بولے(Baule)،اور لیما کارا (Lemakara) میں جماعتیں قائم ہوئیں۔اس طرح آپ نے ملک بور کینا فاسو کے بھی کئی دورے کئے اور یہاں بھی آپ کو جماعتی پروگراموں میں شرکت کے ساتھ بہت سے تبلیغی اور تربیتی کام کرنے کی توفیق ملی۔فضل اللہ طارق صاحب امیر جماعت نجی لکھتے ہیں کہ جب حافظ جبرائیل سعید صاحب 2003 ء میں نجی تشریف لائے تو کہتے ہیں اُس وقت میری ان سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی اور قریب رہنے کا موقع ملا۔تو پہلی ملاقات میں حافظ صاحب کی ایک اچھی عادت کا مشاہدہ ہو گیا۔وہ یہ کہ رات کو جب حافظ صاحب کی آنکھ کھلتی تو آپ قرآن کریم دہراتے رہتے تھے۔حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ آپ بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔تبلیغ کے میدان میں صاحب تجربہ تھے۔ہر چھوٹے بڑے سے اس کے مزاج کے مطابق تبلیغی گفتگو کیا کرتے تھے۔دینی علم کے ساتھ دنیاوی معلومات سے بھی بہرہ مند تھے اور ایک کامیاب مبلغ کی طرح باتوں باتوں میں اسلام کا پیغام پہنچا دیتے تھے۔آپ کا انداز تکلم بہت بے تکلفانہ تھا اور ہنستے مسکراتے ہوئے مشکل سے مشکل بات بھی بڑے آرام سے کر لیتے تھے۔کریاتی کے مبلغ ابراہیم اے کے آر کو صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ حافظ احمد جبرائیل سعید صاحب کریباتی، طوالو اور دیگر جزائر میں تبلیغ کی خاطر بہت کثرت کے ساتھ دورہ جات کرتے اور اُن کی فیملی پیچھے بالکل اکیلی رہتی۔مختلف جگہوں میں دوروں پر جاتے اور کبھی فیملی کی پرواہ نہ کرتے بلکہ کہتے تھے کہ اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے خلیفۃ المسیح نے میرا انتخاب کیا ہے اور مجھے یہاں بھجوایا ہے۔خلیفۃ المسیح میرے لئے دعا بھی کرتے ہیں۔اس لئے انہوں نے تبلیغ کا کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ہر وقت یہی کوشش ہوتی کہ وہ خلیفہ وقت کی توقعات پر پورا اترسکیں۔جب ان کا تقر روا پس گھانا میں ہوا تو انہیں نے ان جزائر ممالک کے ساتھ اپنا ناطہ نہ توڑا بلکہ ان جزائر میں تبلیغ کے حوالے سے بہت فکر رہتی تھی۔2010ء میں جب میں نے دوبارہ بھی ان کو دورے پر بھجوایا ہے تو بڑا وسیع دورہ کر کے آئے تھے اور بڑی معلومات لے کر آئے اور وہاں جماعت کے نظام کو بڑا Establish کر کے آئے تھے۔