خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 617 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 617

خطبات مسرور جلد دہم 617 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء اس لئے میں بھی کہتا رہا ہوں اور مجھ سے پہلے خلفاء بھی خاص طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھی کہتے رہے ہیں کہ اگلی نسلوں کو اپنے بزرگوں کے واقعات اور حالات اور تاریخ کی بجگالی کرتے رہنا چاہئے تا کہ اگلی نسلوں کا بھی جماعت سے مضبوط تعلق پیدا ہو اور ان کی تربیت بھی ہو۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ صحابہ کے خاندانوں کے بعض افراد جو جماعت سے دور ہٹ جاتے ہیں، وہ بعض افراد جماعت یا عہدیداروں وغیرہ کے رویہ کی وجہ سے دور ہٹتے ہیں اور پھر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غلط تھے۔پس ایسے لوگوں کو ذرا ذراسی بات پر زُود رنجی دکھانے کی بجائے اپنے لئے بھی خدا تعالیٰ سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مانگنی چاہئے اور جولوگ وجہ بن رہے ہیں اُن کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے بزرگوں نے بڑی تحقیق کر کے احمدیت قبول کی تھی ، یا اللہ تعالیٰ سے براہ راست رہنمائی حاصل کر کے احمدیت کو قبول کیا تھا۔موجودہ نسلیں تو غلط ہوسکتی ہیں کیونکہ اُن کا خدا تعالیٰ سے وہ تعلق نہیں ہے جو پہلوں کا تھا، جو ان بزرگوں کا تھا لیکن وہ بزرگ غلط نہیں ہو سکتے۔ہمیشہ یاد رکھیں۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلائے اور کبھی کوئی ایسا موقع پیدا نہ ہو جو انہیں یا ہم میں سے کسی کو بھی دین سے دور لے جانے والا ہو ، اللہ تعالیٰ کی رضا سے دور لے جانے والا ہو۔ایسے لوگ اگر خود یہ جائزے لیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کو ان کی انانیت یا نا مجھی نے دین کے مقابل پر کھڑا کر کے دین سے دور کر دیا ہے۔پس صحابہ کی اولاد میں سے ایسے جو کسی بھی وجہ سے دین سے دور ہو گئے ہیں یا جماعتی نظام سے دور ہو گئے ہیں ، جن کے ذاتی تصورات یا خیالات اُن پر حاوی ہو گئے ہیں ، انانیت اُن پر حاوی ہوگئی ہے، اُنہیں چاہئے کہ اپنے لئے ہمیشہ راہ راست پر چلنے کے لئے دعائیں کریں۔اپنے بزرگوں کے احسانوں کو یاد کریں جس میں سے سب سے بڑا احسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ہمارے خون میں اس فیض کو جاری کرنا ہے۔اللہ کرے کہ صحابہ کی اولادیں ہمیشہ دین پر قائم رہنے والی ہوں اور اُن کے لئے دعا کرنے والی ہوں ، نہ یہ کہ کسی بھی قسم کا اعتراض اُن کے دل میں پیدا ہو۔آج پھر میں اس چھوٹی سی تمہید کے بعد صحابہ کے واقعات بیان کروں گا۔پہلا واقعہ اور روایت حضرت محمد فاضل صاحب ولد نور محمد صاحب کی ہے۔فرماتے ہیں کہ: ایک رات بعد نماز عشاء میں نے مولوی صاحب ( مولوی سلطان حامد صاحب) کی خدمت میں عرض کی کہ مولوی صاحب!