خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد دہم 616 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز مسرور احمد خلف المسح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012 ء بمطابق 12 راخاء 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات اور روایات بیان کرتا ہوں تو جس صحابی کا واقعہ بیان ہوتا ہے، اُن کی اولادیں اور اُن کی نسلیں اپنے خطوط میں اس پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں اور دعا کے لئے بھی کہتی ہیں کہ دعا کریں کہ ہم اور ہماری آئندہ نسلیں اس اعزاز کی حفاظت کرنے والے ہوں جو ہمیں ہمارے دادا پڑدادا یا پڑنا نا، دادی پڑدادی وغیرہ کو زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے سے ملا ، یا اُنہوں نے وہ زمانہ پایا اور براہ راست امام وقت سے فیض پایا۔لیکن ایک واقعہ پر میری حیرت کی انتہا ہوئی، جب میں نے سنا کہ بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے بزرگوں پر یہ اعتراض بھی کر دیتے ہیں کہ انہوں نے غلط کیا کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آگئے۔اُن کے دلوں میں یہ غلط خیالات اُن بزرگوں کے صحیح حالات اور واقعات نہ جاننے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔اب جبکہ میں نے اُن بزرگوں کے واقعات بیان کرنا شروع کئے ہیں تو ایسے ہی غلط فہمی میں مبتلا ایک خاندان یا شخص نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا کہ فلاں بزرگ کی روایات بیان کر کے آپ نے اُن کے بارے میں جوا لجھن پیدا کرنے والے بعض سوالات مجھے اٹھتے تھے اُن کو ختم کر دیا ہے۔تو یہ واقعات بیان کرنا بعض خاندانوں کے افراد کی غلط فہمیاں جو اُن کو اپنے بزرگوں کے بارے میں پیدا ہو جاتی ہیں، انہیں دور کرنے کا بھی باعث بنتا ہے اور اُن کی نسلوں کو جماعت کے قریب لانے کا بھی باعث بنتا ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے واقعات بیان کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو کچھ حد تک بیان کئے تھے پھر بیچ میں رہ گئے تھے۔