خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 518

خطبات مسرور جلد دہم 518 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2012 ء تو یہ ان بزرگوں کے چند واقعات تھے جنہوں نے ایک تڑپ اور لگن سے آنے والے مسیح موعود کو مانا۔سید محمود عالم صاحب کا جو واقعہ ہے یہ بھی دراصل حدیث میں جو آیا ہے ناں کہ گھسٹتے ہوئے گھٹنوں کے بل بھی چل کے جانا پڑے تو جانا، اُسی کی ایک شکل بنتی ہے۔کس قدر تکلیف اُٹھائی ہے لیکن ایک عزم تھا جس سے وہ چلتے رہے اور آخر کا را اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات کو بلند فرما تا چلا جائے اور ہمیں بھی اپنے ایمان وایقان میں ترقی عطا فرمائے۔اور عامتہ المسلمین کے بھی سینے کھولے کہ وہ مسیح موعود کو پہچاننے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں اور یہ جو آفات آجکل ان پر ٹوٹی پڑ رہی ہیں ان سے بھی بچنے والے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اب میں ایک افسوسناک اطلاع بتاؤں گا۔مکرم محمد ہاشم سعید صاحب جو یہاں کے پرانے احمدی تھے، اُن کی گزشتہ دنوں سعودی عرب میں وفات ہو گئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔( حضور نے دریافت فرمایا : ان کا جنازہ آ گیا ہے) آج ہی اُن کا جنازہ پہنچا ہے۔ابھی یہاں آیا ہے تو اب نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ اُن کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔یہاں آتے جاتے تھے۔بہت زیادہ سفر کرتے تھے۔11 / اگست کو یہاں سے گئے ہیں اور سعودی عرب ائر پورٹ پر اترے ہیں تو وہاں اُن کو دل کی تکلیف شروع ہوئی ہے۔سید ھے کلینک چلے گئے اور وہیں اچانک ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔2000ء میں آپ سعودی عرب منتقل ہوئے تھے۔اُس سے پہلے آپ یہیں تھے۔اور متواتر کئی سال تک آپ کو وہاں بھی مختلف اہم جماعتی خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔جماعت کے جو روٹین کے خدمات کے عہدے ہیں وہ آپ کے پاس رہے۔لیکن اس کے علاوہ بھی میں اُن سے وہاں بعض اہم جماعتی کام لیتا رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بڑے احسن طریقے پر سب کام سرانجام دیئے۔بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ان میں بہت صلاحیتیں تھیں۔انتظامی امور میں بڑا درک رکھتے تھے۔تکنیکی پیچیدگیاں جو تھیں ان کے بارے میں علم تھا۔اُن کا دینی علم بھی بڑا تھا۔بلکہ کہنا چاہئے زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی ذہانت اور مہارت قابل ستایش تھی۔لیکن انتہائی منکسر المزاج، ملنسار، شفیق، دھیمے لہجے میں بات کرنے والے عاجز انسان تھے۔بڑے ہمدرد اور مخلص تھے اور ہر ایک سے اُن کا اخلاص کا تعلق تھا۔چندہ جات اور مالی تحریکات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے والے تھے۔کسی کو ذراسی بھی تکلیف میں دیکھتے تھے تو بے چین ہو جاتے