خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 474
خطبات مسرور جلد دہم 474 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء یہ اُس کی مرضی ہے کس کو چاہے قبول کرے۔کس کو چاہیے نہ کرے۔اس لئے ہر وقت خوف رہنا چاہئے کہ جب ہم اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوں تو ہمارے سے بخشش کا سلوک ہو۔کسی نیکی پر کسی کوفخر نہیں ہونا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل فرماتے تھے۔روایت میں آتا ہے حضرت شهر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت اُم سلمہ سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کے ہاں ہوتے تھے تو زیادہ تر کونسی دعا کرتے تھے۔اس پر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حضور علیہ السلام یہ دعا پڑھتے تھے۔يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا پر مداومت کی ، با قاعدگی کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا۔اے اُم سلمہ ! ہر انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جسے چاہتا ہے ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب 89/94 حدیث : 3522) پس آپ جو ہمیں ہدایت دینے آئے تھے، ان کے اُسوہ پر چل کر حقیقی تقویٰ اور خشیت کا پتہ چلتا ہے، جن کی پیروی اللہ تعالیٰ کا محبوب بناتی ہے اُن کی خشیت کا یہ معیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں ہیں اور ہمیں کس قدر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اپنی یہ حالت رکھتے ہیں وہی ہیں جو نیکیوں اور بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ہر طرف ہر وقت اپنی حالت پر غور ہوگا یا یہ کہ وہ ایسی حالت رکھنے والے ہیں تو پھر ہی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف سب کی توجہ پیدا ہوگی اور انسان کوشش کرتا رہے گا۔تو پھر ان کے قدم نیکیوں کی طرف آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ کوشش یہ کرتے ہیں کہ تمام قسم کی نیکیوں کو اپنا ئیں۔تقویٰ میں ترقی کریں لیکن اس بات پر بھی فخر نہیں۔ہر حالت میں ہر وقت اُن کے دل خدا تعالیٰ کی طرف جھکے رہتے ہیں۔اور یہی حالت ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلواتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانوں میں سے ہم پر ایک بہت بڑا احسان یہ بھی ہے کہ دعاؤں کو مانگنے کے طریقے بھی ہمیں سکھائے۔ایک دعا کا ذکر احادیث میں اس طرح ملتا ہے جو دراصل تو ہمارے لئے ہی ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ دعا کرنی چاہئے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کیا کرتے تھے کہ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لَّا يُسْمَعُ وَ مِنْ نَّفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ کہ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو خشوع نہیں کرتا۔اور ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی۔