خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد دہم 397 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء ناطے ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار تلقین کی اور جو مومن ہے اُس کا دوسرے مومن پر تو اور بھی بہت زیادہ حق ہے۔اس کے بارے میں خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے تلقین فرمائی ہے جس کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیئے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی بہت توجہ دلائی ہے۔فرمایا کہ دوسروں کے لئے اپنے دل میں رفق اور نرمی پیدا کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 69 ایڈیشن 2003 مطبوعہ ربوہ ) ہمدردی پیدا کرو اور صرف یہ جلسوں تک ہی محدود نہ ہو بلکہ پھر عام زندگی میں بھی اُس کا اظہار ہو۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھائی بھائی ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کئی کئی سال ناراض رہتے ہیں اور یہ ناراضگیاں پھر دوسرے رشتوں میں بھی آگے ٹرانسفر ہوتی چلی جاتی ہیں۔پھر یہ رفق ، نرمی اور ہمدردی اور ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنے میں جو کمی ہے اس سے پھر بعض دفعہ گھروں میں جب ہمدردی کی کمی ہو جاتی ہے، پیار اور محبت کی کمی ہو جاتی ہے تو اس سے گھر بھی ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔ایک وقت تھا جب ہم کہا کرتے تھے کہ مغربی دنیا میں آزادی کی وجہ سے گھروں میں بے سکونی ہے اور طلاقوں کی شرح یہاں بہت زیادہ ہے۔خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا خیال نہیں رکھتے۔نرمی اور پیار و محبت سے ایک دوسرے سے بات کرنا گوارا نہیں کرتے۔شروع میں جو محبتیں ہوتی ہیں ایک سٹیج کے بعد آخر میں وہ دشمنیوں پر منتج ہورہی ہوتی ہیں۔وجہ یہی ہے کہ اس ماحول کی وجہ سے ایک دوسرے پر اعتماد نہیں رہتا، اعتماد میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر اس کا آخری نتیجہ گھر ٹوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔اب ہمارے لئے بھی یہ لحہ فکر یہ ہے کہ احمدی گھروں میں بھی بے سکونی بڑھتی چلی جارہی ہے اور نتیجتاً گھر ٹوٹ رہے ہیں۔جہاں سے بھی مجھے قضاء کی رپورٹیں آتی ہیں یا جماعت کی اصلاحی کمیٹیوں کی رپورٹیں آتی ہیں اُن اکثر جگہوں پر طلاقوں اور خلع کی شرح بہت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔پس ایک احمدی کو رفق ، نرمی اور ہمدردی کے ہر پہلو پر حاوی ہونے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے ، اپنے دائرے کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تبھی ہم حقیقی احمدی بن سکتے ہیں۔پس اس جلسہ میں اس پہلو کی طرف بھی توجہ دیں اور اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں اور پھر اس پر قائم رہنے کا عہد بھی کریں۔