خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 396
خطبات مسرور جلد دهم 396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء کے اوقات بھی بتائے اور انہیں کس طرح پڑھنا ہے یہ بھی کر کے دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے اس کی تفصیل بھی کچھ حد تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کی روشنی میں بیان کی تھی۔پس اس اہم فریضے کی طرف بہت توجہ دیں اور پھر تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے صرف نمازوں پر ہی اکتفا نہ ہو بلکہ بعض دوسری عبادتیں بھی فرض ہیں وہ بھی ادا کرنا ضروری ہیں۔پھر نوافل ہیں وہ ادا کرنے بھی ضروری ہیں۔اپنی نمازوں کو نوافل سے بھی سجائیں۔تہجد اور دوسرے نوافل کی طرف توجہ دیں۔ان تین دنوں میں بہت سوں کی تہجد کی طرف توجہ ہوگی۔جب تو جہ ہو تو پھر اسے زندگی کا حصہ بنائیں کیونکہ فرائض کی کمیاں نوافل سے پوری ہوتی ہیں اور نوافل میں تہجد کی بڑی اہمیت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرف جماعت کو بہت توجہ دلائی ہے۔فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کرلیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اُس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔اُس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں“۔فرمایا کہ ”جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اُس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ نیند سے اُٹھنا یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے انسان اپنی نیند کی یہ قربانی کر رہا ہے۔فرمایا ”پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل میں پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 182 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پس تہجد کی یہ اہمیت ہے کہ اس کے لئے اُٹھنا ہی انسان میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔آجکل کی دنیا میں مختلف ترجیحات ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ رات دیر سے سوتے ہیں۔تہجد کا مجاہدہ یقیناً ان حالات میں تقویٰ میں ترقی اور پاک تبدیلی پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس یہ عبادت کے حق کی ادائیگی انسان کو جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے وہاں انسان کے اپنے فائدے کا بھی بڑا ز بر دست ہتھیار ہے۔حقیقی مومن پر اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد ایک بہت بڑا حق اُس کے بھائیوں کا حق ہے یا کہنا چاہئے کہ انسانیت کا حق ہے اور قطع نظر اس کے کہ کون کس قوم کا ہے اور کس مذہب کا ہے، انسانیت کے