خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد دہم 11 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء تو لائبیرین ڈالر انعام دیا اور لائبیرین ڈالر کی بڑی معمولی ویلیو (Value) ہے۔نماز کے بعد جب مربی صاحب نے احباب جماعت کو تحریک جدید کے چندے کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی اور خاص طور پر زور دیا کہ بچوں کو بھی ضرور شامل کیا کریں تو وہی بچہ اُٹھا اور اپنے والد کے کان میں جا کے بتایا کہ میں نے بھی چندہ دینا ہے اور میرے پاس پیسے ہیں۔باپ نے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہیں تو دے دو۔چنانچہ بچے نے وہی پانچ ڈالر جو اس کو ملے تھے چندے کے طور پر ادا کر دیئے۔اس بچے کے اس جذبے کا باقی بچوں پر بھی اثر ہوا تو انہوں نے بھی اپنے والدین سے پیسے لے کے اس تحریک میں شامل ہونا شروع کیا۔کرغزستان کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع دوست ضمیر صاحب (Zameer) نے تقریباً تین سال قبل بیعت کی تھی۔اور 2008ء میں جب صد سالہ خلافت جوبلی کا جشن منایا گیا تو مرکزی ہدایات 3 کی روشنی میں کچھ رقم مقامی سطح پر بھی اکٹھی کی گئی تھی۔ان کی تنخواہ اُس وقت چھیاسٹھ ڈالر تھی ، غریب ملک ہے۔کہتے ہیں جب ہمارے مبلغ بشارت احمد صاحب نے اُن سے کہا کہ آپ بھی جو بلی کے جلسے کے لئے وعدہ لکھوائیں تو انہوں نے چوالیس ڈالر وعدہ لکھوایا اور جب اُنہیں تنخواہ ملی تو سیدھے مشن ہاؤس آئے اور یہ کہہ کر اپنا وعدہ ادا کر دیا کہ گھر جاؤں گا تو خرچ ہو جائیں گے۔اس طرح وہ گھر صرف بائیس ڈالر لے کر گئے۔چوالیس ڈالر و ہیں دے گئے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے اخلاص کی بھی بہت قدر کی۔تھوڑے عرصے میں اُن کو ایک اور اضافی کام مل گیا جہاں انہیں تقریباً ایک سو پچاس ڈالر اضافی ملنے شروع ہو گئے اور اب تقریباً تین ماہ سے ایک غیر ملکی کمپنی میں کام کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے اب اُن کی تنخواہ سات سوستر ڈالر ہے۔اور انہوں نے اب وصیت بھی کر دی ہے۔جب اُن کو مربی نے کہا کہ وصیت کے بعد اب آپ کو ایک بٹا سولہ (1/16) کے بجائے ایک بٹا دس (1/10 ) چندہ دینا پڑے گا تو انہوں نے کہا میں نے جس دن سے بیعت کی ہے میں تو اُس دن سے ہی ایک بٹا دس (1/10 ) دے رہا ہوں۔اسی طرح کرغزستان کی ایک نو مبائع خاتون جلد ز صاحبہ(Jildiz ) ہیں۔بہت مخلص ہیں۔اُن کو بیعت کئے ہوئے ایک سال ہوا ہے لیکن اس عرصے میں انہوں نے چندہ نہیں دیا تھا۔جب اُن کو چندے کے بارے میں بتایا گیا، اُس کی اہمیت واضح کی گئی اور بتایا کہ کون کونسے چندے لازمی ہیں۔کون کو نسے اپنی مرضی سے آپ نے دینے ہیں۔جب اُن کو مسجد میں تحریک کی جارہی تھی تو فور اوہاں سے اُٹھ کے گئیں اور اگلے دن صدر صاحب کو کہا کہ میں ابھی ملنا چاہتی ہوں۔تو صدر صاحب نے کہا کہ میں تو ابھی کہیں کام جا رہا ہوں لیکن انہوں نے کہا نہیں مجھے فور ملنا ہے۔چنانچہ وہ آئیں اور پندرہ ہزار کر غرسم اُن کو