خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 61

61 والوں نے اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا۔مجھے یہ بات سن کر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کا احسان ہے کہ ہمارے ان مظلوم اور بے کس بھائیوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف جذبات ان لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہو گئے ہیں جن سے آج تک سوائے سب و شتم کے ہم نے کبھی کچھ نہیں سنا۔بلکہ ان واقعات کے بعد بھی انہوں نے کئی ایسی باتیں کی ہیں جن کی غرض صرف ہمیں چڑانے اور ہمارا دل دکھانے کے سوا کچھ نہ تھی۔مگر بہر حال مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ہمیں اس فعل کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔میں ان کی اس آواز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی مجھے اس بات پر تعجب اور حیرت بھی ہوئی اور پنجابی کی مثل یاد آگئی جو یہ ہے کہ جو ماں سے زیادہ چاہے بجھے کٹنی کہلائے۔بھلا انہوں نے کونسی ایسی عملی کارروائی کی۔یا انہوں نے کونسی ایسی تجویز کی جس کے ذریعے انہوں نے اپنے وہم میں کابل کے احمدیوں کو آزادی دلائی۔یا وہ اس کے ذریعے ان کو آزادی دلا بھی سکتے ہیں۔پھر کونسی عقل اس واہمہ کو ایک منٹ کے لئے صحیح سمجھ سکتی ہے۔کہ جن کے جسموں کے وہ ٹکڑے تھے اور جن کے خون کا وہ حصہ تھے۔جن کے ساتھ ان کے دنیا کے جسمانی تعلقات سے بھی زیادہ روحانی تعلقات تھے ان کے دلوں میں تو اپنے بھائیوں کے قتل پر کوئی جذبہ اور جوش پیدا نہ ہو اور دوسرے اپنے اندر زیادہ ہمدردی اور جوش محسوس کریں۔جب جسمانی تعلقات میں یہ بات نہیں ہوتی کہ جن کا کوئی رشتہ دار مصیبت میں ہو اور وہ خاموش گھروں میں بیٹھے رہیں۔پس روحانی تعلقات جو جسمانی تعلقات سے کہیں بڑھ چڑھ کر اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن کا ان مظلوموں کے ساتھ روحانی تعلق ہو وہ تو گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں لیکن دوسروں کے دل ان کے لئے بے قرار اور اضطراب میں ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو فعل حکومت کابل نے کیا ہے انسانیت کا تقاضا ہے کہ اس سے سب انسان کہلانے والوں کی طبیعتوں میں جوش اور جذبات پیدا ہوں۔کیونکہ وہ فعل جو انسانیت کے خلاف ہوتا ہے اس کے خلاف سب کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہے۔قطع نظر اس سے کہ مظلوم کس مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہو۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں۔جوش کے بھی حدود اور مدارج ہوتے ہیں اور اصلی طور پر جتنا جوش قریب ترین تعلق رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے اتنا دوسرے لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہو سکتا۔اور احساسات کی وہ لہر جو قریب ترین تعلق رکھنے والوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتی ہے وہ دوسروں کے دلوں میں نہیں ہو سکتی۔میں عیسائیوں اور ہندوؤں کی اس ہمدردی کی بھی جس کا اظہار انہوں نے اس موقع پر کیا