خطبات محمود (جلد 9) — Page 381
381 منایا۔حالانکہ آپ کے بہت سے انسان ان پر تھے مگر ان لوگوں نے ناشکری کی اور طعن وغیرہ کرنے شروع کر دیئے۔اگر چہ بعض ان میں دبی زبان سے کرتے تھے۔مگر ایسے لوگوں نے آپ کے احسانوں کی ناشکری ضرور کی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ناشکری کا بیج بڑھتا بڑھتا ان کو منافق بنا گیا۔اگر مدینہ کے تمام لوگ آپ کی قدر کرتے تو یہ منافق بھی نہ پیدا ہوتے۔مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ آنحضرت ا کی شکر گزاری کرتے اور جان و مال کو قربان کر دیتے۔الٹا طعن کرنے شروع کر دے۔طعن کی زبان ناشکری سے ہی کھلتی ہے۔از ان طبعی طور پر جن کا شکر گزار ہوتا ہے ان کو کبھی طعن نہیں کرتا۔وہ مرد جو بیوی کا شکر گزار ہو۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ وہ طعن کرتا ہو یا بیوی کی شکایت کرتا ہو۔اسی طرح وہ بیوی جو خاوند کی احسان مند ہو۔کبھی اسے طعن نہیں کرتی اور کبھی کسی سے اس کا گلہ نہیں کرتی۔ایسا ہی ایک بیٹا اگر باپ کا احسان مند ہے اور اس کے احسانوں کی قدر کرتا ہے اور ان کے لئے اس کا شکر گزار ہے تو وہ کبھی کسی کے پاس اپنے باپ کا شکوہ نہیں کرے گا۔یہی حال روحانی امور کا ہے کہ اگر شکر گزاری ہو۔تو کوئی شخص زبان طعن نہیں کھولتا۔آنحضرت کے احسانوں کی قدر اگر انہیں ہوتی۔تو مدینہ کے بعض لوگوں میں ناشکری نہ پیدا ہوتی اور وہ منافق نہ بنتے۔پس رسول اللہ کے احسانوں کو یاد کرتے ہوئے خدا سے کہنا چاہئے کہ ہم تو ان کا کچھ بدلہ نہیں دے سکتے۔تو ہی ان کا عوض رسول کریم کو دے اور اس کا اجر آپ کو عطا فرما۔یہی درود کا مطلب ہے۔پس چاہئے کہ اس کی کثرت اختیار کی جائے اور اس کے ذریعہ اپنی احسان مندی کو بہترین صورت میں ظاہر کیا جائے۔میں نے بتایا ہے کہ درود رسول کریم ﷺ کے احسانوں کہ باز کرنا اور اپنی احسان مندی جتانا اور خدا سے اس کا عوض دینے کی درخواست کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے بعد ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی بے شمار احسانات ہیں۔اس لئے درود میں ان کو بھی شامل کرنا چاہئے ایک یہی کیا کم احسان حضرت مسیح موعود کا ہم پر ہے کہ آپ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا پتہ ہم کو ملا آج لوگوں نے بھوٹی اور بناؤٹی اور ہتک آمیز روایتوں سے آنحضرت کچھ بنا دیا تھا۔نہ صرف یہ بلکہ مختلف قسم کی باتوں سے آپ کی اصل شان کو ہی، گھٹا دیا تھا اور بعض ایسی غلط اور بے ہودہ باتیں آپ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں۔جو ہرگز آپ کے شایان شان نہ تھیں۔غرض لوگوں کی غلط روایتوں نے آپ کو پس پردہ چھپا دیا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ ال کو کچھ کا