خطبات محمود (جلد 9) — Page 375
375 جو ادب و احترام کے منافی نہیں ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے۔مساجد چونکہ مسلمانوں کے جمع ہونے کی جگہ ہیں۔اس لئے سوائے نماز اور ذکر الہی کے وہ بعض ایسے کاموں کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہیں جن کا اثر قومی رنگ میں ہوتا ہو۔مثلاً وہاں قومی معاملات سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔تعلیم و تعلیم جاری کی جا سکتی ہے۔علم پڑھایا جا سکتا ہے۔درس دیئے جا سکتے ہیں۔اور اور کام ہو سکتے ہیں جو قومی کام ہوں اور جن کا اثر قوم پر پڑتا ہو۔لیکن افراد کی باتیں گھروں میں بہ نسبت مساجد کے زیادہ طے ہونی چاہیں اور ان کے لئے مسجد کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی میں جنگی امور کے متعلق بحثیں کرتے ہوئے تو نظر آتے ہیں۔تعلیم دیتے ہوئے تو نظر آتے ہیں اور درس دیتے ہوئے تو نظر آتے ہیں لیکن دنیاوی امور یا ذاتی معاملات یا خانگی باتیں کرتا ہوا کوئی نظر نہیں آتا اور اگر کوئی شخص اس میں کھڑے ہو کر یہ کہہ دیتا کہ میری فلاں چیز گم گئی ہے۔اگر کسی کو ملی ہو تو مجھے دیدے۔تو کہا جاتا ہے کہ خدا تمھاری اس چیز میں برکت نہ ڈالے۔مسجد گی ہوئی چیزوں کے لئے نہیں۔پس مسجد اگر ہے تو نماز کے لئے ہے یا ذکر الہی کے لئے ہے اور پھر یا قومی معاملات اور تعلیم وغیرہ کے واسطے ہے۔ان میں جنگی معاملات کے متعلق تو مشورہ ہو سکتا ہے۔ان میں قضاء کے امور تو طے پا سکتے ہیں ان میں تعلیم تو دہی جا سکتی ہے۔ان میں درس تو دیئے جاسکتے ہیں۔اس لئے کہ یہ وہ باتیں ہیں۔جن کا قومی معاملات پر اثر پڑتا ہے لیکن ان کے سوا کوئی اور کام ان میں نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اور کام مساجد میں کرنا درست ہے اور خاص کر کوئی ایسا کام تو مساجد میں کرنا ہرگز درست نہیں۔جس کا اثر قومی نہیں بلکہ انفرادی ہے۔مسجد ونکہ مسلمانوں کے اجتماع کی جگہ ہے۔اس لئے اس میں اس قسم کے امور جائز قرار دیئے گئے ہیں اور قضاء اور جنگی معاملات اور تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کی اجازت دی گئی ہے مگر ذاتیات کی باتوں اور غیر قومی امور کو درست نہیں رکھا گیا۔الا ماشاء اللہ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ مساجد میں بیٹھ کر ذکر الہی کیا کریں۔تعلیم دیں۔درس جاری کریں۔اور دوسرے قومی معاملات طے کریں۔بیشک یہاں کے محکموں والے مسجدوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے مشورہ لے سکتے ہیں اور فیصلے کر سکتے ہیں۔کیونکہ ان کے کام ذاتی نہیں۔قومی ہیں اور ان کا اثر صرف افراد پر نہیں پڑتا۔بلکہ قوم پر بھی پڑتا ہے۔پس مساجد میں قومی کام تو کئے جاسکتے ہیں لیکن ادھر ادھر کی باتیں نہیں کی جا سکتیں اور گئیں نہیں ہانکی جا سکتیں۔میں اپنی جماعت کے چو