خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 29

29 باپ اس کو اتنا کہہ دینے سے آزاد نہیں ہو سکتے کہ چوری بری چیز ہے۔بچے کو ان کا یہ کہہ دینا کہ لڑنا اور گالی دینا بری بات ہے یہ کافی نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا فرض ہے کہ جھوٹ بولنا گالی دینا چوری کرنا ان سے چھڑوائیں۔ماں باپ واعظ نہیں ہیں وہ مودب اور مربی ہیں۔ان کا فرض ہے کہ وہ سختی سے کام لیں۔ہاں معاونت ضروری ہے ورنہ اس کی ایسی ہی مثال ہوگی جیسے کوئی پانچ کو کہے کہ زمین پر پاؤں رکھ کر چلا کرو۔اس پر اس کو مجبور کرنا بالکل فضول بات ہے۔اگر وہ اس کی بات کو مان بھی لے تو باوجود کوشش کے بھی وہ چل نہیں سکے گا۔صرف اس کو چلنے پر مجبور کرنا ہی کافی نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہے کہ اس کو سہارا دے کر چلائے یہاں تک کہ وہ خود چلنے لگے یا اس کی لاتوں پر مالش کی ضرورت ہے تو مالش کرے۔بعض وقت معمولی مالش بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچاتی اور وہ کھڑا نہیں ہو سکتا اس کے لئے مدتوں مالش کی ضرورت ہوتی ہے مہینوں میں کہیں جا کر طاقت آتی ہے۔اس لئے مودب کے لئے معاونت اور سہارا دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔تو دنیا میں ایک واعظ اور ایک مربی اور مودب میں فرق ہوتا ہے۔واعظ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے نصیحت کر دی تھی لیکن یہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے نصیحت کر دی تھی بلکہ ان کا فرض ہے کہ وہ خود کوشش کر کے مرض کا ازالہ کریں۔پس ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جن کو صرف کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے۔لیکن دوسری قسم کے جو لوگ ہیں وہ صرف کہہ دینے سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ کوئی دوسرا ان کو سہارا نہ دے۔اس کے بغیر ان کا مرض مٹ نہیں سکتا۔ایسے کئی ہیں جو سستی کے باعث کوئی کام نہیں کرتے۔لیکن اگر ان کو نصیحت کی جائے تو وہ نصیحت ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ان کو اتنا ہی کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ تمہاری یہ غلطی ہے۔لیکن جو نصیحت مانتے ہی نہیں ان کے لئے زیادہ اصلاح اور انتظام اور نگرانی کی ضرورت ہے۔بغیر اس کے ان کا علاج نہیں ہو سکتا۔ایسے افراد کی کہ جو کوئی کام نہیں کرتے ان کی لٹیں تیار کی جائیں اور دریافت کیا جائے کہ وہ کیوں کوئی کام نہیں کرتے۔کئی تو ایسے ہیں کہ وہ حق رکھتے ہیں کہ بغیر کام کے ان کو گزارہ دیا جائے۔جیسے نابینا یا ایسے پانچ کہ جن کے لئے کام کرنا ناممکن ہے۔ایسے لوگوں کو علیحدہ کر کے دوسروں کی فہرستیں تیار کر کے پھر ان کی اقسام بنائی جائیں۔بعض تو ایسے نکلیں گے جو کام نہیں کر سکتے۔ان میں طاقت نہیں ، ضعیف ہیں۔ان کی طاقت کے مطابق ان کو کوئی کام نہیں ملتا اور بعض ایسے نکلیں گے کہ جو کوئی پیشہ اور فن جانتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن ان کا علم اور ان کا کام موجودہ حالت کے مطابق کام نہیں دے سکتا۔اور بعض ایسے نکلیں گے کہ جو کام کر سکتے اور پیسے کما سکتے ہیں لیکن وہ کام کرنا نہیں چاہتے۔ان کو کام کرنے پر مجبور کیا