خطبات محمود (جلد 9) — Page 30
30 جائے۔اگر تسلیم نہ کریں تو جماعت کو ان کے بوجھ سے سبکدوش کیا جائے اور ان کی مدد نہ کی جائے۔ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا۔آپ نے ایسے لوگوں سے جھولیاں چھنوا لیں اور جبراً ان سے کام کروایا۔حضرت عمر نے آدمی مقرر کر دیئے تھے تا سکتے لوگوں کو دیکھا جائے ایسے لوگوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جائے اور ان کے اس قسم کے عذر بالکل نہ سنے جائیں کہ ان کو ان کی شان کے مطابق کوئی کام نہیں ملتا۔یا یہ کہ دس روپے میں ان کا گزارہ نہیں چلتا۔حالانکہ اگر اس کا گزارہ تمہیں روپے میں چلتا ہے اور اس کو کوئی دس روپے آمد کا کام ملتا ہے تو وہ دس روپے کا کام کر کے دس روپے کا بوجھ جماعت سے ہلکا کر سکتا ہے۔اگر تھیں میں اس کا گزارہ چلتا ہے اور نوکری میں اس کو پانچ ملتے ہیں تو کم سے کم پانچ کا بوجھ تو جماعت سے اٹھ گیا۔تمیں کی بجائے پچیس کا بوجھ جماعت پر رہ گیا۔اس کی پانچ روپے کی نوکری کو لینے سے گویا پانچ روپے ماہوار چندہ دینے والے کا جماعت میں اضافہ ہو گیا کیونکہ وہ پانچ روپے جماعت کو بچ جائیں گے۔ہماری جماعت کے اسی روپے ماہوار تنخواہ پانے والے پانچ روپے چندہ دیتے ہیں۔تو ایسا شخص جو جماعت پر تمھیں روپے کا بار بنا ہوا تھا وہ پانچ کی بھی اگر کوئی نوکری کر لیتا ہے تو گویا اسی روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والا جماعت میں داخل ہو گیا۔اگر وہ دس کما سکتا ہے تو گویا ایک سو ساٹھ روپیہ تنخواہ پانے والا سلسلہ میں نیا داخل ہو گیا۔اگر ایسے لوگوں میں سے دو پانچ پانچ کمانے لگ جائیں۔تو گویا وہ اسی اسی روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے نئے پیدا ہو گئے۔اگر وہ دس دس روپے ماہوار کمانے لگ جائیں تو گویا وہ ایسے نئے شخص جماعت میں داخل ہو گئے جو ہر ایک ان میں سے ایک سو ساٹھ روپیہ کماتا ہے۔اگر سو آدمی جن کا بار جماعت پر ہے اس قسم کے پیدا ہو جائیں کہ پانچ پانچ بھی اگر ماہوار کمانے لگ جائیں تو گویا پانچ سو روپے کے بار سے جماعت بچ گئی۔اس لئے ان کا یہ عذر نہ سنا جائے کہ یہ معمولی کام ہے یا اتنے میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔تھوڑا ملے یا بہتا ملے ان کو کام پر مجبور کیا جائے۔اگر وہ ایسا ہے کہ کام کرہی نہیں سکتا تو اس کے لئے کوئی انتظام کیا جائے اور اگر کر سکتا ہے تو اس کے لئے کام مہیا کیا جائے اور جو کر ہی نہیں سکتا اس کے لئے جماعت کا فرض ہے کہ اس کا اس کو گزارہ دیں۔مثلاً نابینا ہیں۔یورپ میں تو میں نے بتایا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے کمانے کے لئے بھی کام نکالے گئے ہیں مگر یہاں پر چونکہ ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ نابینا اور پانچ وغیرہ بھی اپنی روزی آپ کما سکیں۔جیسا کہ بعض دیگر ممالک میں۔ہمارا صرف یہ کہنا کہ ایسے لوگوں کے لئے بھی کام نکل آئے ہیں ہم کو ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کر سکتک ذمہ داری سے ہم تب ہی سبکدوش ہو سکتے ہیں کہ ان کے لئے بھی ایسے