خطبات محمود (جلد 9) — Page 308
308 بگڑتا ہو۔پس اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ ضرور بدلہ لیا جائے۔اسی طرح اس کی یہ تعلیم بھی نہیں کہ بدلہ نہ لیا جائے بلکہ اس کی تعلیم میں رحم بھی ہے۔سورۃ فاتحہ جو ام القرآن ہے اور جس کو تمام خوبیوں کا جامع قرار دیا گیا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا خلاصہ یہ چار صفتیں ہی آئی ہیں۔رب العالمین الرحمن الرحیم ، مالک یوم الدین۔ان پر غور کر کے دیکھ لو۔یہ کس قدر مظہریت کا تقاضا کرتی ہیں۔انسان کا یہ کام ہے کہ وہ ان کا مظہر بن جائے اور اس کی ذات سے۔اس کے قول سے۔اس کے فعل سے ان کا اظہار ہو۔خدا تعالیٰ کی ان صفات کا یہ خلاصہ جو سورہ فاتحہ میں بیان ہوا ہے۔وہ رحم پر ہی تو دلالت کرتا ہے۔پس ان کا مظہر بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم بھی رحم سے کام لیں اور اس کا صحیح استعمال سیکھیں۔بیشک بعض موقعوں پر سزا دی جاتی ہے۔بیشک بعض امور کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے خوفناک گرفت ہوتی ہے۔بیشک بعض افعال کے سرزد ہونے پر خطرناک عذاب میں ڈال دیا جاتا ہے اور ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی صفات کا خلاصہ رحم ہے تو پھر اس رحم کے ہوتے ہوئے یہ عذاب اور یہ سزائیں کیسی؟ مگر اس کا یہ کہنا درست نہیں۔کیونکہ یہ سزائیں قانون کے طور پر ملتی ہیں۔نہ کہ غصہ کے سبب یا بدلہ لینے کی نیت سے۔اور اگر ایک شخص غور کرے تو اس پر فورا یہ بات کھل جائے۔کہ قانون کے طور پر بعض سزاؤں کا ملنا ضروری ہے۔جیسے احکام ظاہری شرعی کی نافرمانی۔اب اگر ان کے متعلق سزا نہ دی جائے۔تو ایک ابتری پھیل جائے اور کسی کے دل میں نہ شریعت کی عظمت رہے اور نہ صرف شریعت لانے والے اور ان شریعتوں کے احکام پر عملدرآمد کرانے والے انبیاء اور دیگر تمام صلحاء اور آئمہ وغیرہم کی قدرو منزلت اور ان کی اہمیت گھٹ جائے۔بلکہ خدا تعالیٰ کا خوف بھی کسی کے دل میں نہ رہے۔پس اس کی خلاف ورزی یا نافرمانی کرنے والے کے لئے بطور قانون کے سزا کا ملنا ضروری ہے اور یہ سزا آئندہ کی اصلاح اور گزشتہ کے لئے بطور کفارہ کے ہوتی ہے اور در حقیقت سچا کفارہ ہے بھی یہی کہ انسان اپنی نافرمانی کے بدلے سزا کو برداشت کرے۔پس یہ سزائیں جو بعض احکام کی خلاف ورزی کرنے پر بطور قانون ملتی ہیں۔بطور کفارہ کے ہیں۔جو رحم ہی ہے نہ کہ غصہ اتارنا یا بدلہ لینا۔پس غور کر کے دیکھ لو۔رب العالمین کی صفت رحم پر دلالت کرتی ہے خدا تعالی ربوبیت کرتا ہے اور یہ رحم کی صفت ہے انسان خواہ کچھ ہی کرتا چلا جائے مگر خدا تعالی کی یہ صفت ربوبیت کرنے سے رکتی نہیں بلکہ برابر ربوبیت کرتی چلی جاتی ہے۔یہ رحم ہی تو ہے کہ ایک ایسی ہستی کی کوتاہیوں