خطبات محمود (جلد 9) — Page 309
309 اور غلطیوں کے باوجود جو بالکل بیکس اور بے بس ہے۔خدا تعالٰی کی یہ صفت برابر ربوبیت کرتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح رحمٰن کی صفت بھی ہے۔یہ بھی رحم پر دلالت کرتی ہے۔رحمن کے معنی ہیں بے حد رحم کرنے والا۔اسی طرح رحیم کی صفت بھی رحم پر دلالت کرتی ہے۔اس کے معنی ہیں بار بار رحم کرنے والا۔پھر مالک یوم الدین بھی رحم کی صفت ہے۔یعنی وہ حج ہے مگر مالکانہ طور پر قضا کرتا ہے۔اس کا اختیار ہے کہ ملزم کو سزا دے یا چھوڑ دے۔گویا یہ بھی آدھی صفت رحم کی ہو گئی۔اور چار صفتوں میں سے ساڑھے تین صفات رحم کی ہیں۔پھر چونکہ مالک یوم الدین کے یہ معنی بھی ہیں کہ خدا تعالیٰ اس دن کا مالک ہے جو جزا اور سزا کا دن ہے۔اس لئے وہ اگر چاہے تو معاف بھی کر سکتا ہے۔پس معاف کر دینے کی جو گنجائش اس میں ہے۔اگر اسے صفت رحم کے ساتھ شامل کر دیں تو اس طرح ۳/۴ حصہ رحم اور آر ا حصہ سزا کا رہ جاتا ہے۔کیونکہ مالک کا اختیار ہوتا ہے کہ معاف بھی کر دے لیکن صرف حج ایسا نہیں کر سکتا۔مثلاً زید کا بکر کے ساتھ جھگڑا ہے اور یہ دونوں مجسٹریٹ کے پاس جاتے ہیں۔اب اگر مجسٹریٹ یہ دیکھ کر کہ فی الواقع بکر نے زید کا یہ دیکھ کر کہ فی الواقع بکر نے زید کا سو روپیہ دینا ہے۔یکر کو معاف کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا لیکن اگر خود مجسٹریٹ کا ہی روپیہ دیتا ہو تو مجسٹریٹ چونکہ اس روپے کا مالک ہو گا۔وہ اگر چاہے تو اپنا مطالبہ معاف کر سکتا ہے مگر باوجود حج ہونے کے زید کا مطالبہ معاف نہیں کر سکتا اور اس طرح جو حصہ ان چار صفتوں میں سزا کے لئے باقی رہ گیا تھا۔اس کو بھی ما کیت نے اڑا دیا اور سب صفات کا سولہواں حصہ سزا کا جو رہ جانا تھا۔وہ بھی نہ رہا۔سب صفات الہیہ رحم پر دلالت کرتی ہیں اور ان میں ذرا بھی ایسی کوئی بات نہیں جو رحم کے منافی ہو۔لیکن ہو سکتا ہے کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ سولہواں حصہ تو ضرور سزا کے لئے رہ جاتا ہے۔مگر یہ بات نہیں۔مالکیت کے نیچے آکر تو سوائے رحم کے کچھ نہیں رہتا۔اس لئے یہ احتمال کہ شائد اس کے ماتحت سزا دی جائے اور رحم کو مد نظر نہ رکھا جائے۔درست درست نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اس بات کو بالکل صاف کر دیا ہے اور ایک دوسری جگہ پر صاف لفظوں میں فرمایا ہے۔رحمتی وسعت کل شیئی (الاعراف ۱۵۷) کہ میری رحمت بہت وسیع ہے اور ہر ایک چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ صفات غصبیہ پر بھی میری رحمت چھائی ہوئی ہے۔وہ محدود ہیں مگر رحمت غیر محدود ہے۔پس خدا تعالیٰ کی رحمت اس قدر وسعت رکھتی ہے کہ کوئی بھی چیز اس کے گھیرے سے باہر نہیں۔حتی کہ اس کا غضب بھی اس سے باہر نہیں۔اس طرح جو ۱/۱۶ حصہ سزا کا