خطبات محمود (جلد 9) — Page 275
275 34 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارنامے (فرموده ۲ اکتوبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے مثال کے طور پر پچھلے دو خطبوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ تعلیم توحید کے متعلق بیان کی تھی۔جو آپ نے نور نبوت کے ذریعہ حاصل کر کے لوگوں تک پہنچائی اور بتایا تھا کہ جو کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہے وہ نہ مولویوں سے ہو سکتا تھا نہ ان کے کرنے کا تھا۔نہ وہ کر سکے اور نہ وہ اب کر سکتے ہیں۔آج بھی میں توحید ہی کی تعلیم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ تحقیق بیان کرتا ہوں۔جو بیشک قرآن کریم میں تو مذکور ہے اور آنحضرت اپنا ہی نے تو دنیا کو بتائی ہے لیکن مولویوں کو نظر نہ آئی اور حضرت مسیح موعود نے جو کچھ حاصل کیا وہ قرآن کریم اور آنحضرت ہی سے سیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے دنیا نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی کہ توحید کیا ہے اور قرآن شریف اس کے متعلق کیا کہتا ہے۔توحید قرآن میں تھی۔مگر نہ کسی مولوی نے اس کی طرف خیال کیا۔اور نہ کسی عالم نے۔وہ خزانہ تھا مگر مخفی۔جس کو کوئی مولوی ہاتھ نہ لگا سکا۔وہ ایک موتی تھا جو قرآن کریم کے علوم کے سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا تھا۔جیسے وہاں سے کوئی نہ نکال سکا کیونکہ اس تہہ میں سے اگر کوئی نکال سکتا تھا تو وہی غوطہ خور نکال سکتا تھا جو گہرا غوطہ لگا سکتا تھا۔مگر مولویوں میں یہ ہمت نہ تھی۔توحید کے متعلق جس چیز پر لوگوں نے زور دیا ہے اور مولوی اور علماء نے بھی جس پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی ذات میں کسی کو شریک نہ قرار دیا جائے۔خدا کی صفات میں کس کو اس کا شریک نہ قرار دیا جائے۔خدا کے مرتبہ میں کسی کو شریک نہ سمجھا جائے اور خدا کے اظہار قدرت